غیر مسلموں کے ساتھ نرمی و غمخواری کریں ، نقالی سے بچیں

   

دوسرے مذاہب میں رنگے بغیر ،خدمت خلق کے ذریعہ دل جیتنے کی تلقین، کاماریڈی میں جلسہ ، مفتی ابوبکر قاسمی کا خطاب

کاماریڈی : کاماریڈی میں مقصود ایڈوکیٹ کے آفس پر برادران وطن سے تعلقات کے حدود کے عنوان سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں صوبہ تلنگانہ کے عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد ابوبکر جابر قاسمی ناظم کھف الایمان ٹرسٹ حیدرآباد تشریف لائے ۔تمہیدی کلمات مفتی عرفان قاسمی صدر مفتی دار الافتاء والارشاد شرعی پنچایت ضلع کاماریڈی نے پیش کیا جس میں مفتی صاحب نے کئی غیر شرعی امور کی طرف متنبہ کیا کہ برادران وطن ہونے کی حیثیت سے ان کے ساتھ کس حد تک کا تعلق ہونا چاہیے کیا جائز اور ناجائز ہے وضاحت کی۔اور کہا رواداری کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ توحید متاثر ہو اور ایمان مجروح ہو۔ اسلاف کے طرز عمل پر مجلس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، مفتی عمران حسین قاسمی معاون ناظم مدرسہ اصلاح البنات وکاس نگر کاماریڈی نے کی، نبی اکرم ﷺ کی شان میں شہر حیدرآباد کے مشہور قاری قاری عبد المقتدر رشادی ناظم مدرسہ تجوید القرآن سعیدآباد نے پر اثر انداز میں نعت پاک پیش کی، اس کے بعد مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی ابوبکر صاحب جابر قاسمی نے اپنا خطاب دانشوران قوم سیاسی کارکنان اور علماء حفاظ کے سامنے پیش کیا، جس میں حضرت والا نے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے درجات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کے ساتھ معاملات درست ہونے چاہیے، دوسرا درجہ مواساۃ و غمخواری کا ہے، انکے ساتھ محبت اور نرمی سے رہناچاہئیے ، یہ مطلب نہیں کہ انکے مذہب کی نقالی کرنے لگیں اور انکے تہواروں میں شرکت کرنا اسکے علاوہ دیگر غیر شرعی رسومات کو اختیار کرنا یہ ہرگز جائز نہیں، تیسرا درجہ مدارات کا ہے یعنی خوشی کا ماحول رکھنا چاہیے،اور کہا کہ سب سے اہم مسئلہ توحید کا ہے جب اللہ ہی نہ ملے تو سب کچھ مل کر بھی بیکار ہے،اسی طرح ملک میں موجود تمام مذاہب کا پاس و لحاظ رکھنے اور دیگر مذاہب میں رنگے بغیر عوام کی خدمت کر کے دل جیتنے کی ترغیب دی، مسلم بادشاہوں کی تاریخ اور ان کے تقوی خدمت خلق انصاف پسندی دین پرستی سادی زندگی کے واقعات اور انکے کارنامے بیان فرمایا۔ چنانچہ خطاب کے بعد درد انگیز دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔جلسہ کے کنوینر جناب میر فاروق صدر قبرستان کمیٹی واستقبالیہ جناب مقصود احمد ایڈوکیٹ ،حافظ فہیم صاحب منیری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت جناب نورالالیاس ناظم مدرسہ کاشف العلوم، مفتی مجاہد خان امام وخطیب مسجد گڑھی، و مفتی ریحان القاسمی حافظ مہتاب ، محمد سلیم رکن بلدیہ ودیگر سیاسی لیڈران وقائدین دانشوران و ذمہ داران موجود تھے۔