غیر مقامی لوگوں کو حق رائے دہی قبول نہیں :فاروق عبداﷲ

   


الیکشن کمیشن کے فیصلے کی آل پارٹی میٹنگ میں مخالفت کی ، این سی لیڈر کا بیان
سرینگر: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کرنے والے تمام لیڈروں نے اتفاق رائے سے غیر مقامی لوگوں کو ووٹ کا حق دینے کے الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کی مخالفت کرنے کا فیصلہ لیا۔انہوں نے کہا کہ غیر مقامی لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینا نا قابل قبول ہے اور اس فیصلے کے خلاف ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار پیر کو آل پارٹی میٹنگ کے بعد یہاں اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہمیں نے آل پارٹی میٹنگ، الیکشن کمیشن کے حالیہ بیان جس میں مزدوروں اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں سمیت غیر مقامی لوگوں کو جموں وکشمیر میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا، کے مسئلے کو لے کر طلب کی۔اُن کا کہنا تھا کہ جن پارٹیوں نے میٹنگ میں شرکت کی ان میں نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، عوامی نیشنل کانفرنس، شیو سینا، سی پی آئی (ایم)، جے ڈی یو اور اکالی دل شامل تھی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آج جن غیر مقامی لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ہے ان کی تعداد 25 لاکھ ہے اور کل یہ تعداد 50 لاکھ یا ایک کروڑ ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی شناخت پر راست حملہ کیا جا رہا ہے کیونکہ کشمیری، ڈوگرہ، سکھ اور دیگر کمیونٹی کے لوگ اپنی پہچان کھو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ غیرمقامی لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جموں وکشمیر کی اسمبلی کل غیر مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے پانچ روز قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ فون پر بات کی اور انہیں امر ناتھ یاترا معاملے پر منعقد کی گئی آل پارٹی میٹنگ کی نوعیت کی میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے پچھلی بار کہا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے لیڈروں کو میٹنگوں میں دعوت دیتے رہیں گے لیکن ایسا پھر نہیں ہوا۔