حیدرآباد ۔ 7 فبروری (سیاست نیوز) اسٹیٹ فارنسک سائنس لیباریٹری (ایف ایس ایل) میں آج آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ نامپلی میں واقع ایف ایس ایل میں پیش آئے خوفناک واقعہ میں کئی اہم ریکارڈز جل کر تباہ ہوگئے۔ تاہم ریکارڈز کے متعلق حکام نے بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہیکہ آج صبح تقریباً 10:30 بجے ایف ایس ایل کی عمارت میں آگ لگی۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔ اس عمارت کے قریب ہی بچوں کا سب سے بڑا ہاسپٹل نیلوفر واقع ہے۔ تاہم حادثہ کے وقت عمارت میں سوائے صفائی عملہ کے کوئی اور نہیں تھا۔ ایک آفس بوائے نے پہلی منزل پر دھواں دیکھا اور فوری ساتھی عملہ کو آگاہ کیا اور اس بات کی اطلاع محکمہ فائر سرویس کو دی گئی۔ عمارت کی پہلی منزل پر لگی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع کے فوری بعد 5 فائر انجن موقع واردات پر پہنچے اور آگ پر قابو پالیا۔ اس دوران نارتھ زون ڈی آئی جی شویتا اور خیرت آباد زون ڈی سی پی شلپاویلی نے سارے بچاؤ آپریشن کی نگرانی انجام دی۔ ( سلسلہ صفحہ 8پر )
تاہم ان عہدیداروں کو بھی اس بات کا پتہ نہ چل سکا کہ عمارت میں تباہی کا کیا حال ہے۔ فارنسک سائنس لیباریٹری میں کئی اہم مقدمات کی فائز اور شواہد کا ریکارڈ محفوظ تھا۔ اس دوران ڈی سی پی خیریت آباد زون شلپاویلی نے بتایا کہ آگ صبح تقریباً 10:30 بجے لگی۔ دفتر میں حادثہ کے وقت چار افراد کا عملہ موجود تھا جو آگ لگنے کے بعد فوری باہر آگیا اور 5 فائر انجن گاڑیوں نے آگ پر قابو پالیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف ایس ایل میں ہوئی تباہی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ کونسے مقدمات سے متعلق ریکارڈ تباہ ہوا ہے یا پھر محفوظ ہے اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی قطعی رپورٹ دی جاسکتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ایف ایس ایل میں کمپیوٹر لیاب اور کمپیوٹرس اور دیگر الیکٹرانک اشیاء و آلات تباہ ہونے کی اطلاع پائی جاتی ہے۔ اس لیاب میں ڈی این اے ٹسٹوں کی رپورٹس اور فنگر پرنٹس کے علاوہ دیگر اہم دستاویزات اور مقدمات سے متعلق رپورٹس موجود تھیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ فارنسک لیاب میں کئی اہم مقدمات سے متعلق شواہد موجود تھے۔ ان مقدمات کے آڈیو، ویڈیو فائلس کے علاوہ دیگر ریکارڈ موجود تھے۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی کی خریداری کا معاملہ، فون ٹیاپنگ کیس سے متعلقہ ڈیٹا، ہارڈ ڈیکس کی بھی اس عمارت میں موجودگی کی اطلاعات پائی جاتی ہے۔ تاہم اس اہم و سنگین مسئلہ سے متعلق کسی بھی سرکاری ذرائع سے توثیق نہیں کی گئی۔ پولیس نے اس سلسلہ میں تحقیقات کا آغاز کردیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ برقی شاک سرکٹ کے سبب ہوئی۔ع