مجھ سے ملنے کے خواہاں ،فی الحال اپنا پروگرام موخر کریں: فاروق عبداللہ

,

   

Ferty9 Clinic

سری نگر، 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وادی میں چونکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے اس کے پیش نظر مجھ سے ملنے کے خواہاں لوگوں خصوصاً پارٹی لیڈران، عہدیداران، کارکنان اور معزز شہریوں سے گزارش ہے کہ فی الحال مجھ سے ملاقات کا پروگرام موخر کریں۔ انشائاللہ اس وبائی بیماری کے خطرات ٹل جانے کے بعد میرے دروازے ماضی کی طرح ہر ایک کھلے رہیں گے ۔واضح رہے کہ جموں وکشمیر کے تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکے فاروق عبداللہ کو گذشتہ جمعے کو قریب ساڑھے سات ماہ بعد خانہ نظربندی سے رہا کیا گیا۔ تب سے لیکر اب تک ہزاروں کی تعداد میں نیشنل کانفرنس لیڈر اور کارکن ان سے ملے ہیں۔فاروق عبداللہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ اس وبائی اور مہلک بیماری کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچانے کے لئے جو پابندیاں اور احتیاطی تدابیر اپنانے کے لئے کہا جارہا ہے اُن پر عمل پیرا ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ انتظامیہ، محکمہ صحت، ڈاکٹر حضرات اور ماہرین کی طرف سے مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی مفید مشوروں پر بھی عمل کیا جانا چاہئے ۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ عالمگیر وبائی بیماری کورونا وائرس کے پیش نظر ہر ذی شعور شخص کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ تو اس وبائی بیماری کی زد میں آئے اور نہ ہی اس بیماری کے پھیلا[؟] کا ذریعہ بنے ۔ انہوں نے کہا کہ میری رہائش گاہ پر ملاقات کرنے کے لئے وفود آتے ہیں اور یہ ایک اجتماع کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ایسے حالات میں یہ اجتماعات نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اللہ کے دربار میں نہایت ہی انکساری، عاجزی و ندامت کے ساتھ سربسجود ہوکر عالم انسانیت کی بقاء کے لئے دعا کریں اور اُن مسنون و مستند دعا[؟]ں کا ورد کریں جو قرآن اور حدیث کی روشنی میں وبائی بیماری پھوٹ پڑھنے کے اوقات میں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ خوف خدا اور توبہ استغفار میں رہنا چاہئے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہمیں اس مہلک بیماری سے نجات دینے والا قادر مطلق ہے ۔

فاروق عبداللہ کا وزیر اعظم نریندرمودی کو مکتوب
سری نگر، 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام وادی کشمیر میں

4G
موبائل انٹرنیٹ خدمات کی فوری بحالی کے لئے ایک مکتوب ارسال کیا ہے ۔واضح رہے کہ وادی میں سال گذشتہ کے پانچ اگست سے فور جی موبائل انٹرنیٹ خدمات مسلسل معطل ہیں۔موصوف رکن پارلیمان نے وزیر اعظم کے نام خط میں لکھا ہے کہ کشمیرمیں کورونا وائرس کا ایک مثبت کیس سامنے آنے کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کو لاک ڈاؤن کیا ہے جس سے طلبا اور تجار مزید مشکلات سے دوچار ہوں گے ۔انہوں نے لکھا ہے : ‘جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کشمیر میں کورونا وائرس کا پہلا مثبت کیس سامنے آیا ہے جس کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کو لاک ڈاؤن کیا ہے ، طلبا اور تجار کو پہلے ہی سال گذشتہ کے پانچ اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے بے تحاشا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اب وہ ایک بار پھر مشکلات میں پھنس گئے ہیں، انہیں کہا جارہا ہے گھر میں بیٹھ کر کام اور پڑھائی کریں جو ٹو جی موبائل انٹرنیٹ خدمات سے ممکن نہیں ہے ‘۔موصوف نے لکھا کہ اس تناظر میں میری گذارش ہے کہ وادی میں فوری طور پر فور جی موبائل انٹرنیٹ سروس کو بحال کریں تاکہ لوگوں بالخصوص طلبا اور تجار کے مشکلات کا کسی حد تک ازالہ ہوسکے ۔دریں اثنا ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بھی کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات و خدشات کے پیش نظر جموں وکشمیر حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فور جی انٹرنیٹ خدمات بحال کریں۔قبل ازیں جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری اور پی ڈٰی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے بھی کورونا وائرس کے پیش نظر فور جی موبائل انٹر نیٹ کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔بتادیں کہ جموں و کشمیر میں فی الوقت کورونا وائرس کے چار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں تین جموں میں جبکہ ایک کشمیر میں درج ہوا ہے ۔ کورونا وائرس کی دستک کے ساتھ ہی انتظامیہ نے وادی کشمیر کو لاک ڈاؤن کیا ہے ۔