نئی دہلی : بچوں کو جنسی استحصال اور جنسی ہراسانی سے بچانے کیلئے ملک میں 754 فاسٹ ٹریک عدالتیں ہیں جن میں پوکسو کی 404 عدالتیں ہیں جنہوں نے 3 لاکھ سے زیادہ مقدمات کو نمٹا دیا ہے ۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کی مرکزی وزارت کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کو اولین ترجیح دیتی ہے ۔ انصاف کا محکمہ عصمت دری اور پوکسو سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت اور نمٹارے کیلئے فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس ( ایف ٹی ایس سی ایس ) کے قیام کی اسکیم کو نافذ کر رہا ہے ، جس میں خصوصی پوکسو عدالتیں بھی شامل ہیں۔ ہائی کورٹس سے موصولہ تفصیلات کے مطابق، 31 جنوری 2025 تک، 754 فاسٹ ٹریک عدالتیں ہیں، جن میں 404 خصوصی پوکسو عدالتیں بھی شامل ہیں، جو 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کام کر رہی ہیں، جنہوں نے 3,06,000 سے زیادہ مقدمات کو نمٹا دیا ہے ۔ وزارت کے مطابق، حکومت نے بچوں کو جنسی استحصال اور جنسی ہراسانی سے بچانے کیلئے پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنسز ( پوکسو ) ایکٹ، 2012 نافذ کیا ہے ۔
اس میں 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کو بچہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2019 میں ایکٹ میں ترمیم کی گئی تھی جس میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کرنے والوں کے لیے سزائے موت سمیت مزید سخت سزاؤں کا بندوبست کیا گیا تھا تاکہ مجرموں کو سزا دی جا سکے ۔ ایکٹ کی دفعہ 4 میں ‘دخول جنسی حملہ’ کے لیے کم از کم 20 سال کی سخت قید کی سزا دی گئی ہے ، جو عمر قید تک بڑھ سکتی ہے ۔ اگر حملے کے نتیجے میں متاثرہ شخص کی موت واقع ہوتی ہے یا وہ مسلسل جسمانی غیرفعالیت کی حالت میں رہتا ہے ، تو سیکشن 6 سزائے موت یا عمر قید کا انتظام کرتا ہے ۔ سیکشن 8 جنسی ہراسانی کے مرتکب پائے جانے والوں کے لیے کم از کم تین سے پانچ سال قید کی سزا دیتا ہے ، جب کہ سیکشن 10 سنگین جنسی ہراسانی کے لیے اسے کم از کم پانچ سال تک بڑھاتا ہے ۔ اس ایکٹ کے سیکشن 14 میں بچوں کو فحش مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر سات سال تک قید کی سزا دی گئی ہے ۔