فتحِ مکہ، تاریخ اسلام کی عظیم فتح

   

ڈاکٹر سید شاہ سمیع اللہ حسینی بندہ نوازی
اسلامی تاریخ کا ایک نہایت عظیم، بابرکت اور فیصلہ کن دن ۲۰ رمضان المبارک ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو وہ عظیم الشان فتح عطا فرمائی جسے فتحِ مکہ کہا جاتا ہے۔سنہ ۸ ہجری (۶۳۰ء ) میں رسول اللہ ﷺ تقریباً دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مکہ کو تقریباً بغیر بڑی جنگ اور خونریزی کے مسلمانوں کیلئے فتح فرما دیا۔یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جس نے نہ صرف مکہ بلکہ پورے جزیرۂ عرب میں اسلام کی صداقت اور قوت کو نمایاں کر دیا۔
مدینہ منورہ سے ۱۰ رمضان کو تقریباً دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ لشکر روانہ ہوا۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی:”اے اللہ! قریش کی آنکھوں اور خبروں کو ہم سے پوشیدہ رکھ تاکہ ہم اچانک مکہ پہنچ جائیں“۔جب لشکر مکہ کے قریب مرّ الظہران کے مقام پر پہنچا تو ہزاروں آگ جلائی گئیں۔ اس عظیم لشکر کو دیکھ کر قریش کے سردار ابو سفیان حیران رہ گئے اور بعد میں انہیں اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔رسول اللہ ﷺ نے لشکر کو حکمت کے ساتھ چار حصوں میں تقسیم فرمایا تاکہ مختلف راستوں سے شہر میں داخل ہوجائے۔ مرکزی لشکر کے ساتھ خود رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔آپ ﷺ نے واضح ہدایات دیں:”کسی سے جنگ نہ کرنا جب تک وہ خود جنگ نہ کرے۔“ اسی طرح مسجدِ حرام اور خانہ کعبہ کے احترام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی تاکید فرمائی کہ وہاں بلا ضرورت قتال نہ کیا جائے۔جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کا سر مبارک اللہ تعالیٰ کے حضور شکر اور عاجزی کے اظہار میں اس قدر جھکا ہوا تھا کہ تقریباً اونٹنی کی کجاوے کو چھو رہا تھا۔رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں داخل ہوئے اور خانہ کعبہ کے گرد موجود تقریباً ۳۶۰ بتوں کو توڑ دیا۔اس وقت آپ ﷺ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے: (ترجمہ ) ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا“۔اس طرح خانہ کعبہ کو ہمیشہ کے لئے شرک سے پاک کر کے اسے توحید کا مرکز بنا دیا گیا۔
فتح مکہ کے بعد خانہ کعبہ کی چابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی۔ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ اب یہ اعزاز بنی ہاشم کو ملنا چاہئے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے عدل اور امانت کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے کعبہ کی چابی دوبارہ اس کے سابق نگہبان عثمان بن طلحہ کو واپس فرما دی اور فرمایا:”اے بنی طلحہ! یہ چابی ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی، اسے تم سے صرف ظالم ہی چھینے گا“۔
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے عظیم صحابی حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دیں۔یہ ایک انتہائی تاریخی اور جذباتی لمحہ تھا۔ وہی بلال جو کبھی مکہ میں غلام تھے اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنے تھے، آج خانہ کعبہ کی بلند ترین جگہ سے اللہ کی وحدانیت کا اعلان کر رہے تھے۔جب اُن کی آواز ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ مکہ کی فضاؤں میں گونجی تو اسلام کی عظمت کا ایک نیا باب رقم ہو گیا۔
فتح کے بعد رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے دروازے پر تشریف لائے اور اہلِ مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور اور آباء و اجداد پر فخر ختم کر دیا ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے“۔
فتح کے بعد رسول اللہ ﷺ نے قریش کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا:”اے قریش! آج تمہیں کیا گمان ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟“۔ انہوں نے جواب دیا:”آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں“۔تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو“۔یہ اعلان انسانی تاریخ میں رحمت، عفو اور اعلیٰ اخلاق کی ایک بے مثال مثال ہے۔
فتح مکہ دراصل تلوار کی نہیں بلکہ اخلاق، صبر، حکمت اور رحمت کی فتح تھی۔فتح مکہ انسانی تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جس نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ اصل فتح دلوں کو جیتنے میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے طاقت حاصل ہونے کے باوجود انتقام کے بجائے معافی، عدل اور رحمت کو اختیار فرمایا۔یہی وجہ ہے کہ دشمن بھی متاثر ہوئے اور دلوں کے دروازے اسلام کے لئے کھلتے چلے گئے۔درحقیقت فتح مکہ تلوار کی نہیں بلکہ کردار کی فتح تھی، وہ فتح جس نے دشمنوں کو بھی دوست بنا دیا اور انسانیت کے لیے رحمت اور امن کا دائمی پیغام چھوڑ دیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سیرتِ نبوی ﷺ کے ان عظیم اصولوں ، صبر، عدل، رحم اور تواضع کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا بھر میں امن و سلامتی عطا فرمائے۔آمین۔