پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پیرس کے مضافاتی علاقے نانٹیرے میں ٹریفک سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس اہلکار کے ہاتھوں کار ڈرائیور نہیل ایم (17) کو گولی مار دیے جانے کے بعد تیسرے دن بھی پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ ہر جگہ ملک کے مختلف مقامات پر مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔مقتول کی والدہ کی قیادت میں مارچ جمعرات کی سہ پہر پرتشدد ہو گیا۔ ملک بھر میں تشدد کے تیسرے دن راتوں رات للی اور مارسیلے میں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ نانٹیرے شہر میں ایک عمارت کے گراؤنڈ فلور پر واقع بینک میں زبردست آگ بھڑک اٹھی۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر میں کئی مقامات پر آگ کے شعلے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔پیرس اور وسیع علاقے میں تشدد کے پیش نظر مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے بس اور ٹرام سروسز کو معطل کر دیا گیا۔ کچھ مضافاتی علاقوں نے رات کے کرفیو کا اعلان کیا ہے ۔فرانسیسی وزیر اعظم ایلزبتھ بورن نے کہا کہ وہ نوجوان کی موت پر جذبات کو سمجھتی ہیں لیکن فسادات کی مذمت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تشدد کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔ملک کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینین نے کہا کہ چہارشنبہ کی رات جھڑپوں میں 170 اہلکار زخمی اور 180 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب ملک کے شہروں میں ہونے والے فسادات میں کاروں اور عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے بعد تشدد سے نمٹنے کے لئے فرانس بھر میں تقریباً 40,000 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے ۔ ناہیل کی والدہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے قتل کیلئے پولیس یا عمومی طور پر نظام کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔
فرانس میں نوجوان کی ہلاکت، مظاہرے بلجیئم تک پھیل گئے
پیرس : فرانس میں پولیس کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کے سبب جاری جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ تیسرے روز بیلجیم تک پھیل گیا۔فرانس میں پولیس کے ہاتھوں نوجوان کو قتل کیے جانے کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے جمعرات کو شدت اختیار کرگئے۔مقتول کی والدہ کی قیادت میں پیرس میں ہزاروں افراد کی جانب سے ریلی نکالی گئی۔اس دوران درجنوں گاڑیوں کو آگ لگادی گئی اور بعض دکانوں مِں لوٹ مار بھی کی گئی۔پولیس نے دو سو مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ نوجوان پر گولی چلانے والے پولیس اہلکار سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔دوسر جانب اراکین پارلیمنٹ اس بات پر مشتعل ہیں کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون لواحقین سے ملنے کے بجائے معروف گلوکار سر ایلٹن جان کے ساتھ پارٹی کرتے رہے۔