فرانس میں پولیس فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد تشدد جاری

,

   

فسادات پر قابو پانے 45 ہزار عہدیدار تعینات‘صدر ایمانوئل میکرون کا دورہ جرمنی ملتوی

پیرس، یکم جولائی (یو این آئی)فرانس میں شمالی افریقی نژاد نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں مسلسل چار روز سے ہنگاموں اورتشدد کا سلسلہ جاری ہے جن پر قابو پانے کے لیے ہفتے کو 45 ہزار پولیس عہدیداروں کو تعینات کیا گیا اور متعدد بکتر بند گاڑیاں سڑکوں پر گشت کر رہی ہیں۔ میڈیا کے مطابق ان ہنگاموں کے دوران کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا اور دکانوں کو لوٹ لیا گیا، پُرتشدد مظاہروں نے صدر ایمانوئل میکرون کو 2018 میں شروع ہونے والے ‘یلو ویسٹ’ احتجاج کے بعد سنگین بحران میں ڈال دیا ہے ۔صدر ایمانوئل میکرون نے موجودہ دھماکوں صورتحال کے پیش نظر جرمنی کا اپنا سرکاری دورہ ملتوی کردیا ہے ۔پیرس میں ٹریفک اسٹاپ کے دوران پولیس کی جانب سے 17 سالہ نوجوان ناہیل ایم کو پولیس کی جانب سے گولی مارنے کے واقعے کے بعد ملک بھر میں پھر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور مشہور شخصیات نے بھی اس قتل پر غم و غصے کا اظہار کیا۔نوجوان کی موت نے غریب اور نسلی طور پر مخلوط شہری برادریوں کی پولیس تشدد اور نسل پرستی کی دیرینہ شکایات کو دوبارہ جنم دیا ہے ۔وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے ہفتے کی صبح بتایا کہ جمعہ کی رات 270 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جس سے بدامنی شروع ہونے کے بعد گرفتاریوں کی مجموعی تعداد 1100 سے تجاوز کر چکی ہے ۔پولیس نے بتایا کہ وسطی مارسیلے میں فسادیوں نے بندوق کی دکان کو لوٹ لیا اور متعدد شکاری رائفلیں چرا لیں، تاہم کوئی گولہ بارود نہیں لوٹا گیا۔مارسیلے کے میئر بینوئٹ پیان نے قومی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اضافی فوجیوں کو بھیجا جائے ، ان کا کہنا تھا کہ لوٹ مار اور تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔فرانس کے تیسرے سب سے بڑے شہر لیون میں پولیس فورس نے بدامنی پر قابو پانے کے لیے بکتر بند گاڑی اور ایک ہیلی کاپٹر تعینات کیا۔ٹی ایف ون کے نیوز پروگرام میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت ایمرجنسی نفاذ کرے گی، جس پر جیرالڈ ڈارمینن کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی مفروضے کو مسترد نہیں کر رہے ، ہم آج رات کے بعد دیکھیں گے کہ جمہوریہ کے صدر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔انہوں نے سوشل میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فسادات کی ‘انتہائی حساس’ فوٹیج کو ہٹائے اور تشدد کو ہوا دینے والے صارفین کی شناخت ظاہر کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی فرانسیسی ہیں، ہم تشدد کے خلاف ہیں۔ایمانوئل میکرون اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر نسل پرستی موجود ہے ۔