امام شافعیؒ کا خاندانی نام محمد اور والد کا نام ادریس بن عباس تھا ۔ شافع ، آپ کے پردادا تھے اس لئے شافعی کہلاتے ہیں۔ شافع ، وہ شخص ہیں کہ جنگ بدر کے موقع پر قبیلہ بنوشہام کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا ۔ جب کفاران قریش کو شکستِ فاش ہوئی تو شافع قیدی بنالیے گئے بعد میں فدیہ دے کر خود کو آزاد کرالیا اور پھر مسلمان ہوگئے ۔ خود حضرت امام شافعیؒ کا قول ہے ’’میری پیدائش ، غزہ میں ہوئی ‘‘۔ غزہ شام کا علاقہ ہے ۔
آپ کی والدہ فاطمہ بنت عبداﷲ ایک مثالی خاتون تھیں ۔ ان کے عزم و ہمت کولفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ۔ ناداری کی حالت میں کئی سال بسر کرنا پھر بھی شوہر کی جاں نثار رہنا، یہ اس عظیم شریک حیات کی زندگی کا ایک ورق ہے جس کی آغوشِ محبت میں امام شافعیؒ پرورش پارہے تھے ۔ عین عالمِ شباب میں بیوگی کا لباس پہن کر ثابت قدم رہنا اور اولاد کی خاطر ذاتی مسرتوں کو قربان کردینا اس کی کتاب زیست کا دوسرا زرین ورق ہے۔ فاقہ کشی اور بے چارگی کا تسلسل ، انسان سے اِس کے ہوش و حواس چھین لیتا ہے ۔ مگر فاطمہ بنت عبداﷲ ، مصائب کی یلغار میں بھی اپنے فرزند کی طرف سے غافل نہیں ہوئیں۔ جب امام شافعیؒ تین سال کے ہوئے تو ایک غیور ماں نے بیٹے کو پہلا سبق دیا ۔ ’’خدا ایک ہے اور وہ سب کا کارساز ہے ۔ کوئی شے اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں ، دنیا کا ہر شاہ و گدا ، خدا کا محتاج ہے ۔ انسان کیلئے اس سے بڑی کوئی ذلت نہیں کہ وہ خدا کو چھوڑکر اپنے ہم جنس کے آگے ہاتھ پھیلائے‘‘۔
پھر فاطمہ بنت عبداﷲ نے یہ سبق اتنی بار دہرایا کہ امامؒ نے اپنی آنکھوں سے غیرت کو مجسم ہوتے دیکھا ۔ روز و شب یہی ایک لفظ آپ کے تعاقب میں رہتا ۔ جہاں بھی جاتے اسی ایک لفظ کی بازگشت سنائی دیتی ۔ ’’غیرت‘‘ کی تکرار صرف اس لئے تھی کہ امامؒ کے معصوم ذہن کو احساس کمتری کا آزار متاثر نہ کرسکے۔ جب فرزند قریش نے اپنی زندگی کے چار سال مکمل کرلئے تو مادرِ گرامی نے دوسرا سبق دیا۔ ’’محمد ! علم حاصل کرو ۔ علم کے بغیر انسان اور حیوان میں زیادہ فرق باقی نہیں رہتا‘‘۔
ایک عرصے کے بعد والدہ محترمہ نے حضرت امام شافعیؒ سے فرمایا ’’فرزند ! انسانی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ۔ آندھیوں کے رُخ پر رکھا ہوا چراغ کسی بھی وقت بجھ سکتا ہے ۔ یہ زبان اپنے خدا کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہے کہ اس نے تمہیں میری زندگی میں حفظِ قرآن کی لازوال نعمت سے سرفراز کیا۔ اب تم اپنا آخری سبق غور سے سنو ۔ ایک ایک لفظ ذہن نشین کرلو کہ اس کے بغیر دنیا اور آخرت میں نجات ممکن نہیں۔ …باقی آئندہ