مایوس کن رائے دہی کیلئے ٹی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس ذمہ دار، محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے بلدی انتخابات میں مایوس کن رائے دہی کیلئے ٹی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ عوامی مسائل کے بجائے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے نتیجہ میں عوام نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ بلدی انتخابات جو مقامی بنیادی مسائل پر لڑے جانے چاہئے تھے، انہیں فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا۔ بی جے پی نے قومی قائدین کو مدعو کرتے ہوئے حیدرآباد اور گنگا جمنی تہذیب کے خلاف بیان بازی کی جو پرامن شہریان تلنگانہ کو پسند نہیں آئی۔ نفرت اور فرقہ پرستی کے ایجنڈہ کو ہوا دینے کیلئے بی جے پی کے علاوہ ٹی آر ایس اور مجلس برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ان تینوں جماعتوں نے خفیہ مفاہمت کے ذریعہ ایک دوسرے پر تنقیدوں کا ڈرامہ کیا۔ انتخابی مہم میں عوامی مسائل نظر انداز کردیئے گئے جبکہ گزشتہ دنوں سیلاب کی تباہ کاریوں سے لاکھوں خاندان ابھر نہیں پائے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ رائے دہی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے عوام نے ٹی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کو سزا دی ہے تاکہ آئندہ وہ نفرت کے ایجنڈہ پر انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی کے موقع پر ٹی آر ایس نے دولت ، طاقت اور سرکاری مشنری کا بیجا استعمال کیا۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے رائے دہندوں میں بھاری رقومات خرچ کی گئیں اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔ باوجود اس کے عوام نے رائے دہی سے دور رہتے ہوئے ان جماعتوںکو سبق سکھایا ہے۔ حیدرآباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فرقہ وارانہ ایجنڈہ بلدی انتخابات کا اہم موضوع رہا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ترقی کے ایجنڈہ کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا ۔ محمد علی شبیر نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں اور دولت کی تقسیم کو روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن حکومت کے اشاروں پر کام کرتا رہا اور اس نے جلد بازی میں انتخابی شیڈول جاری کیا تھا۔ ٹی آر ایس نے شکست کے خوف سے تمام وزراء کو انتخابی مہم میں جھونک دیا اور پولیس کا بھرپور استعمال کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج مذہبی ایجنڈہ پر کارفرما پارٹیوں کیلئے ایک سبق ہوں گے۔