جنوں کا کون سا عالم ہے یہ خدا جانے
تجھے بھی بھولتے جاتے ہیں تیرے دیوانے
ملک میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ منافرت اورجنون کے ماحول کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ ایسے وقت میں جبکہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اچانک ہی ملک میں اور خاص طور پر یو پی اور اطراف کی ریاستوں میں فرقہ وارانہ ماحول کو پراگندہ کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے ۔ ایک منظم سازش اور منصوبہ کے تحت ماحول کو خراب کیا جا رہا ہے ۔ کہیں سے اچانک ہی ہندو رکھشا دل کا وجود سامنے آگیا ہے ۔ دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر بی جے پی قائدین کی دعوت پر سینکڑوں افراد جمع ہوئے ۔ انہوں نے مسلم دشمنی میں نعرے بازی کی ۔ مسلمانوںاور اسلام کے خلاف زہر افشانی کی ۔ اس کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل کیا گیا ۔ پولیس نے معمولی دفعات کے تحت کارروائی کی جس کے بعد چند گھنٹوں میں ہی ملزمین کی ضمانت منظور ہوگئی ۔ حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہاں سے ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر پارلیمنٹ ہاوز واقع ہے ۔ مانسون سشن کی کارروائی چل رہی تھی ۔ پولیس کی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا بلکہ جنترمنتر پر جہاںزیادہ سکیوریٹی ہوتی ہے کوئی ایک بھی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا ۔ اس سے خود شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ یہ سارا کچھ منظم منصوبہ اور سازش کے تحت کیا جا رہاہے تاکہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل ماحول کو خراب کیا جائے ۔ عوام کو ایک بار پھر ہندو ۔ مسلم میں الجھا دیا جائے اور حقیقی مسائل سے ان کی توجہ ہٹا دی جائے ۔ ابھی دہلی میں فرقہ پرست جنونیوں کی حرکت پر سارے ملک میں مذمت کی جا رہی ہے ایسے میں اترپردیش کے شہر کانپور میں ایک مسلم شخص کو زدو کوب کیا گیا اور اسے جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا ۔ اس وقت مظلوم مسلم شخص کی ایک چھوٹی لڑکی اس کے ساتھ تھی وہ ان حملہ آور درندوں سے فریاد کرتی رہی کہ اس کے والد کو چھوڑ دیا جائے لیکن جنونی حیوانوں نے انسانیت کی ساری حدیں توڑتے ہوئے زد و کوب جاری رکھی ۔ اس معاملہ کا بھی ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں دکھایا جا رہا ہے کہ پولیس تحویل میں دئے جانے کے بعد اور پولیس کی موجودگی میں بھی اس مسلم شخص کو مار پیٹ کی گئی ہے ۔
اس طرح کے واقعات اچانک ہی شروع نہیں ہوئے ہیں بلکہ یہ شبہات ہیں کہ انہیں ایک منظم منصوبہ اورسازش کے تحت شروع کیا گیا ہے تاکہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں فرقہ وارانہ منافرت سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ جو سروے سامنے آئے ہیں ان میں آدتیہ ناتھ کی حکومت کے خلاف رائے عامہ پائی جاتی ہے ۔ ایسے میں چند جنونیوں کو خرید کر ان کے ذریعہ ماحول خراب کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ جو ویڈیوز ایسے واقعات کے سامنے آ رہے ہیں وہ بھی اتفاق سے وائرل نہیں ہو رہے ہیں بلکہ انہیں عمدا اور پوری تیاری کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مخصوص طبقہ کی دلآزاری کی جاسکے اور دوسرے اکثریتی طبقہ کے جنونیوں کو ایک جٹ کیا جاسکے ۔ یو پی میں انتخابات کیلئے چند ماہ کا وقت رہ گیا ہے ۔ ریاست کے عوام آدتیہ ناتھ حکومت کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں اور شدید ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ عوام کو کورونا بحران کے دوران پیش آنے والے سانحات یاد ہیں۔ عوام کو پتہ ہیں کہ آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ہی گنگا کے کنارے نعشوں سے بھر گئے تھے ۔ رشتہ دار ان نعشوں کو نذر آتش کرنے تک کے موقف میں نہیں رہ گئے تھے ۔ لوگ آکسیجن کیلئے تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے اور حکومت صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف ہوگئی تھی ۔ خانگی دواخانوں میں لاکھوں روپئے اینٹھ کر بھی مریضوں کو موت کے منہ میں ڈھکیل دیا گیا ۔ ان سب سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی نے ایک بار پھر فرقہ وارانہ جنون پیدا کرنا شروع کردیا ہے ۔
بی جے پی کو چاہئے کہ وہ اپنے سیاسی فائدہ اور اقتدار کیلئے ملک کے ماحول کو پراگندہ نہ کرے ۔ جو عناصر ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں انہیں کیفر کردار تک پہونچائے ۔ ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ۔ بلکہ ایسے عناصر کو پیسہ دے کر ایسی حرکتیں کروائی جا رہی ہیں۔ اس سلسلہ کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اترپردیش کے عوام کیلئے بھی انتخابات ایک امتحان سے کم نہیں ہونگے کیونکہ انہیں حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرنا کا موقع پانچ سال بعد ہاتھ آ رہا ہے ۔ کورونا بحران میں بہنے والی نعشوں کا حساب عوام اپنے ووٹ سے کرسکتے ہیں۔ فرقہ واریت کے جنون کو ختم کرنے کیلئے ریاست کے عوام کو سیاسی سمجھ بوجھ اور فہم و فراست سے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔
