میں کوئی پتھر نہیں انسان ہوں
کیسے کہہ دوں غم سے گھبراتا نہیں
ملک میں جبکہ آئندہ سال کے اوائل میں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں فرقہ وارانہ جنون انتہاء کو پہونچتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ویسے بھی ہر بار کے انتخابات کے موسم میں یہی صورتحال ہوتی ہے تاہم اس بار صورتحال اور بھی سنگین ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ کوئی گوشہ ایسا نہیں رہ گیا ہے جو فرقہ وارانہ جنون کا شکار نہیں ہوا ہو یا نہیں کیا گیا ہو۔ خاص طور پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو زر خرید میڈیا کے ٹی وی اینکروں اور سوشیل میڈیا کے روپوش جنونیوں نے اس حد تک پراگندہ کردیا ہے کہ وہ ہر مسئلہ کو فرقہ واریت کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں اور عدم رواداری ان کی فطرت بنتی جا رہی ہے ۔ گاوں اور دیہی علاقوں میںاس طرح کے واقعات پہلے پیش آتے رہے ہیں جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی ہے وہاں انہیں ڈرانے دھمکانے یا پھر ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کے واقعات ایکا دوکا پیش آیا کرتے تھے تاہم اب یہ لعنت شہروں تک سرائیت کرتی جا رہی ہے ۔ گذشتہ دنوں دیوالی کے موقع پر دہلی میں ایک چھوٹی سی ہوٹل کو جنونیوں نے بند کروادیا ۔اس واقعہ کا ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا ہے اور سارے ملک میں اسے دیکھا گیا ہے ۔ اس میں کچھ فرقہ پرست عناصر بریانی فروخت کرنے والے افراد کو دھمکا رہے ہیں۔ انہیں اپنی دوکان بند کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ جب یہ لوگ دوکان بند کرتے ہیں تو انہیں دوکان نذر آتش کردینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کا علاقہ سمجھ رہے ہو کیا جبکہ یہ مکمل ہندو علاقہ ہے ۔ اس طرح ملک میں ہندو ۔ مسلم علاقوں کی تقسیم کی جا رہی ہے جبکہ اس طرح کے واقعات پہلے شائد ہی پیش آئے ہوں۔ تاہم اب نوجوانوں کی ذہنیت کو اس حد تک پراگندہ کردیا گیا ہے وہ کسی بھی شئے کو صرف اور صرف تعصب اور فرقہ پرستی کی نظر سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں اور دوسروں کو برداشت کرنے تیار نہیں ہیں۔اس طرح کے واقعات ملک کے بنیادی سکیولر کردار کے یکسر مغائر ہیں اور ان کے نتیجہ میں سماج میں فرقہ وارانہ منافرت کو مزید عروج حاصل ہو رہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے ۔
یہ واقعہ کسی ایک چھوٹے سے شہر یا گاوں دیہات کا بھی نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے دارالحکومت دہلی کے ایک مصروف علاقہ کا ہے ۔ دہلی میں ملک کا اقتدار اعلی مرکوز ہے ۔ یہیں صدر جمہوریہ ہند رہتے ہیں ‘ وزیر اعظم کا قیام یہیں ہوتا ہے اور ساری مرکزی کابینہ کے دفاتر اور وزراء کی قیامگاہیں موجود ہیں اس کے باوجود جنونیت پسندوں کی جراء ت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ کھلے عام کیمرہ پر مسلمانوں کو دھمکا رہے ہیں ۔ جو لوگ چھوٹے موٹے کاروبار کرتے ہوئے اپنا گذر بسر کرتے ہیں اور روٹی روزگار حاصل کرتے ہیں انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں ان کے روزگار سے بھی محروم کرنے کی سازشیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ یہ ساری صورتحال حکومت کی ناک کے نیچے ہو رہی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ اب تک اس مسئلہ پر کوئی کارروائی دہلی پولیس نے نہیں کی ہے ۔ دہلی پولیس وزیر داخلہ امیت شاہ کے تحت کام کرتی ہے اور امیت شاہ ملک بھر میں پھر کر پولیس کی کارکردگی کی ستائش کرتے نہیں تھکتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی ناک کے نیچے ہی فرقہ وارانہ جنون کو انتہاء کو پہونچایا جا رہا ہے ۔ ملک کے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہیں دھمکایا جا رہا ہے ۔ انہیں تجارت کرنے سے روکا جا رہا ہے ۔ ہندو ۔ مسلم علاقے بانٹے جا رہے ہیں۔ تاہم دہلی پولیس کی جانب سے ابھی تک شکایت نہ ملنے کا عذر پیش کیا جا رہا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ اس ویڈیو کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانونی مشاورت کے بعد شائد کوئی کارروائی کی جائے گی ۔
اس طرح کے معاملات میں اضافہ کی ایک بنیادی وجہ پولیس کی جانبداری اور بعض معاملات میں نا اہلی کا بھی بڑا دخل ہے ۔ بیشتر واقعات میں پولیس حکام حکومتوں کے اشارے پر کام کرتے ہوئے ایسے واقعات میں جانبداری برتنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ اس کی شکایت خود ملک کی عدالتوں نے بھی کی ہے ۔ پولیس اور نفاذ قانون کی ایجنسیاں اس طرح کے جنونیوں کے خلاف کسی طرح کی قانونی کارروائی کرنے کی بجائے انہیں بچانے اور ان کی حرکات و سکنات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی وکیل بن جاتی ہے ۔ اسی سوچ کی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکومت کو ایسے واقعات کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ایسے عناصر کی سرکوبی سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔
بی جے پی قائدین کی دھمکیاں
ہریانہ میں بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ اروند شرما اب سرخیوں میں ہیں۔ انہوں نے کانگریس کو انتباہ دیا ہے کہ وہ کارکنوں کی آنکھیں نکال لیں گے اور ہاتھ کاٹ دینگے اگر کسی نے ان کے ساتھی منیش گرور کی مخالفت کی ۔ یہ ملک کے جمہوری عمل کو چیلنج کرنے اور اسے تہس نہس کرنے جیسی حرکت ہے ۔ در اصل بی جے پی لیڈر منیش گرور کو ایک مندر میں کسانوں نے بند کردیا تھا ۔ وہاں کسان مرکزی زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ جب بی جے پی لیڈر وہاں مندر میں درشن کیلئے پہونچے تو انہوں نے لیڈر کو مندر میں بند کردیا ۔ بعد میں لیڈر کو معذرت خواہی کے بعد چھوڑ دیا گیا ۔ اس پر برہم بی جے پی رکن پارلیمنٹ اروند شرما آج وہاں پہونچے اور انہوں نے ایسا کرنے والوں کی آنکھیں نکال لینے اور ہاتھ کاٹ دینے کا انتباہ دیا ۔ ایک برسر اقتدار جماعت کے رکن پارلیمنٹ کا یہ لب و لہجہ اور یہ الفاظ انتہائی مذموم اور بدبختانہ ہیں۔ اس طرح کے لب و لہجہ اور سخت الفاظ پر مشتمل بیانات بی جے پی قائدین کیلئے عام بات ہوگئے ہیں اور وہ اس میں کسی طرح کی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی کوئی سرزنش نہیں کرتا ۔ پارٹی قیادت ان پر لگام نہیں کستی ۔ اس طرح سے ان کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔ جمہوری ملک میں اس طرح کے بیانات کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی اور ایسے بیانات دینے والوں کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔
