میری حیاتِ شوق نہ جانے کدھر گئی
تم کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئی
ملک میں اب تو شائد ہی کوئی دن ایسا گذر رہا ہے جب فرقہ وارانہ جنون کا کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی مظاہرہ نہ کیا جا رہا ہو ۔ ایسا لگتا ہے کہ سارے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کے ذہنوں میں فرقہ پرستی کا زہر اس حد تک گھول دیا گیا ہے کہ انہیںکوئی دوسری بات سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے اور وہ صرف فرقہ واریت کے جنون کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران اس طرح کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے ۔ حالانکہ ایسے واقعات پہلے بھی پیش آئے ہیں اور ہجومی تشدد میں بے گناہ اور معصوم مسلم نوجوانوں کو موت کے گھاٹ بھی اتارا گیا ہے تاہم ان واقعات میںکورونا وباء کے دوران کمی آگئی تھی ۔ لوگ خود اپنے مسائل میںپریشان تھے تاہم جیسے ہی اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کیلئے وقت قریب آنے لگا ہے ملک بھر میں اس طرح کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ کہیں چوڑیاں فروخت کرنے والے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں گداگروں کو بھی ہندو ۔ مسلم کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ کہیں معمولی رکشا راں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں اسکراپ فروخت کرکے گذر بسر کرنے والے مسلم فرد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ تازہ ترین واقعہ مدھیہ پردیش میں پیش آیا ۔ مدھیہ پردیش کے ضلع اجین کے سیکلی گاوں میں دونوجوانوں نے اسکراپ کا کاروبار کرنے والے ایک مسلم تاجر کو پکڑ لیا اورا سے جئے شری رام کے نعرے لگانے کیلئے مجبور کردیا ۔ ان دونوں نے اس شخص کے ساز و سامان کو بھی راستے میں پھینک دیا اور کہا کہ اگر یہاں تجارت کرنا ہے تو یہ نعرہ لگانا ہی ہوگا ۔ حالانکہ پولیس نے ان دونوں کو گرفتار کرلیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس حد تک فرقہ واریت کا جنون کیوں پیدا ہوگیا ہے ۔ وہ کونسے عوامل اور عناصر ہیں جن کی وجہ سے نوجوانوں کے ذہنوں میں مستقبل اور ترقی کی باتیں نہیں ہیں بلکہ وہ ہند۔ مسلم کی نظر سے سماج کو دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان نوجوانوں کو ملک اور قوم کو درپیش مسائل کی کوئی فکر نہیں رہ گئی ہے ۔ وہ ملک کی ترقی میں اپنا رول ادا کرنے کی فکر نہیں کر رہے ہیں بلکہ فرقہ واریت کے جنون کا شکار ہوگئے ہیں۔
آج ہندوستان میں بیروزگاری عروج پر ہے ۔ کورونا کی وباء نے بے طرح مسائل پیدا کردئے ہیں۔ لاکھوں افراد فوت ہوچکے ہیں۔ کروڑوں افراد اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں۔ کئی خاندان اجڑ گئے ہیں۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھ لیا کہ لوگوں کے پاس اپنوں کی آخری رسوم ادا کرنے تک کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی ۔ دواخانوں میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے ۔ آکسیجن کیلئے لوگوں نے تڑپ تڑپ کر سانس توڑی ہے ۔ آج ملک میں مہنگائی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے ۔ ہر ضروری اور لازمی شئے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا ہے ۔جو روزگار موجود ہیں ان کی کوئی ضمانت نہیں رہ گئی ہے ۔ سرکاری اثاثہ جات کو حکومت کی جانب سے مسلسل فروخت کیا جا رہا ہے ۔ کئی ادارے جو عوامی ملکیت تھے خانگی کمپنیوں کو سونپ دئے گئے ہیں۔ ائرپورٹس اور ریلویز پر تک خانگی شعبہ کی اجارہ داری ہوچکی ہے ۔ دفاعی پیداوار میں یہ کمپنیاں سرگرم ہوچکی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 70 سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ عوام دو وقت کی روٹی کیلئے مجبور ہوچکے ہیں۔ خواتین کی عزت و آبرو محفوظ نہیں رہ گئی ہے ۔ دلت خواتین اور لڑکیوں کی اجتماعی عصمت ریزی ہو رہی ہے اور انہیں قتل کیا جا رہا ہے ۔ ثبوت مٹائے جا رہے ہیں۔ اپنی بیٹیوں کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو پولیس تحویل میں موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ سارے ملک میں افرا تفری اور غیر یقینی کیفیت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے لیکن نوجوانوں کو ان تمام کی کوئی فکر نہیں ہے ۔
ملک کی ہر ریاست اور تقریبا ہر شہر میں فرقہ واریت کا زہر گھول دیا گیا ہے ۔ ماحول اس حد تک پراگندہ ہوگیا ہے کہ لوگ اپنے پڑوسیوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ آج ہندوستان مشکل دور سے گذر رہا ہے ۔ ملک کی تعمیر میں اور اس کے مسائل حل کرنے میں نوجوانوں کو اپنا رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کرنی چاہئے ۔ نئی پہل اور اختراع پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے نوجوانوں کے ذہن اس حد تک پراگندہ کردئے گئے ہیں وہ سنگین مسائل کو چھوڑ کر ہندو ۔مسلم کے تعصب کا شکار ہوگئے ہیں۔ نوجوانوں کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی توانائی ضائع نہ ہو بلکہ وہ ملک و قوم کی تعمیر میں اپنی توانائیاں صرف کریں تاکہ ہندوستان ایک بار پھر جنت نشان بن سکے ۔
