فرنچائز کرکٹ بدعنوانیوں کا مرکز:آئی سی سی

   

لندن: فرنچائز کرکٹ کرپشن کا گڑھ بننے لگی، بڑے پمانے پر تحقیقات جاری ہیں جب کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ الیکس مارشل نے کہاکہ اس وقت زیر تفتیش نصف معاملہ لیگز سے متعلق ہیں۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ الیکس مارشل نے کرک انفو کو دئے گئے انٹرویو میں کہاکہ سارے نہیں کچھ لوگ ٹی وی نشریات میں کچھ وقت کی تاخیر کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، اصل خطرہ وہ سٹہ بازہیں جوکھلاڑیوں کے ذریعے کھیل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے محمد نوید اور شیمان انور اس کی بہترین مثال ہیں، ان کو معلوم تھا کہ وہ کس انداز میں بیٹنگ اور بولنگ کریں گے، اس لئے بڑے داوکھیل کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے۔انہوں نے مزید کہاہے کہ اسوسی ایٹ ممالک کے کھلاڑیوں کو چونکہ کم معاوضہ ملتا ہے اس لیے وہ سٹہ بازوں کا آسان شکار بن سکتے ہیں، اسی طرح چھوٹے مستقل ارکان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے،سب سے غریب مستقل رکن زمبابوے کی مثال سامنے ہے ہے، ہم نے دیکھا کہ وہاں کے کھلاڑیوں کو30 ہزار ڈالر تک پیش کس کی گئی، اتنی رقم میں وہاں پر ایک گھر خریدا جاسکتا ہے، اسی طرح کچھ اسوسی ایٹ ممالک کے کھلاڑیوں کو10ہزار ڈالرجبکہ بعض یورپیئن کلب میچز میں کھلاڑیوںکو 3 ہزار یورو کی پیشکش بھی ہوئی، اسی لیے ہم علاقائی ایونٹس کے دوران بھی چوکنا رہتے ہیں۔الیکس مارشل نے کہا تھا کہ ہمیں ہر سال سینکڑوں کے حساب سے معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں جن کا انٹیگریٹی یونٹ اچھی طرح جائزہ لیتا ہے، اسی طرح مختلف ممالک میں کھیلی جانے والی لیگز پر بھی نظر رکھی جاتی ہے، بعض اوقات سامنے نظر آنے والے افراد ٹیمیں خریدتے جبکہ اصل مالکان پیچھے رہتے ہیں، مشکوک سرگرمیوں کی وجہ سے ان کا پتہ چلا لیا جاتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ کہ کھلاڑیوں کو اپنے دام میں الجھانے کیلیے ہنی ٹریپ کا طریقہ 1970 کی دہائی سے جاری ہے، ایک معاملہ ایسا بھی ہوا جس میں کھلاڑی کو پھنسانے کیلئے طوائف کا استعمال کیا گیا اور اگلے ہی روز اس سے رابطہ کرلیا گیا، ہم بدعنوان لوگوں کی نشاندہی اب زیادہ جلد کرلیتے ہیں، وہ اپنا فون اور شناخت تبدیل کرتے ہیں لیکن پھر بھی نظر میں آجاتے ہیں، اس لیے ہم ان کے منصوبوں کو اکثر عمل سے قبل ہی ناکام بنادیتے ہیں، یواے ای میں کوالیفائرز کے دوران بھی ایسا ہی ہوا۔مارشل نے کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کیلیے اسپانسرشپ کا بھی سہارا لیا جاتا ہے لیکن اس کے طریقہ کارسے بھی معلوم ہوجاتا ہے، جیسے کسی کی مارکیٹ قیمت 1000 ڈالر اور اس کو کئی گنا زیادہ معاوضہ دیا جائے تو یہ چیز بھی ہماری دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔ اس وقت 42 معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔