2500 کروڑ کے قرض کی درخواست
حیدرآباد۔/8جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے کے سی آر حکومت ریزرو بینک آف انڈیا سے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ مالیاتی سال کے آخری تین ماہ میں حکومت رعیتو بندھو، دلت بندھو اور دیگر اسکیمات کیلئے قرض حاصل کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس 9572 کروڑ قرض حاصل کرنے کی حد باقی رہ چکی ہے۔ رعیتو بندھو اسکیم کے لئے روزانہ امدادی رقم کسانوں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کی جارہی ہے۔ حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا کو 2500 کروڑ کی درخواست دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 10 جنوری کو اس سلسلہ میں آر بی آئی فیصلہ کرے گا۔ حکومت نے 13 سال کی مدت کیلئے 1000 کروڑ، 14 سال کیلئے 1000 کروڑ اور 17 سال کیلئے 500 کروڑ کی درخواست دی ہے۔ مالیاتی سال 2022-23 میں اوپن مارکٹ سے قرض کے حصول کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کیلئے مقررہ حد ختم ہونے کو ہے۔ ریاستی حکومت 37650 کروڑ تک قرض حاصل کرنے کی مجاز ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے آر بی آئی کو روانہ کردہ مکتوب میں اس بات کا ذکر کیا گیا۔ 2022-23 میں تلنگانہ کو 53970 کروڑ قرض حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم کارپوریشن کے قرض پر مرکزکی جانب سے تحدیدات عائد کی گئیں جس کے نتیجہ میں ریاستی حکومت توقع کے مطابق قرض حاصل نہیں کرسکی۔ جاریہ مالیاتی سال ریاستی حکومت نے 28 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کرلیا ہے اور باقی 9572 کروڑ مالیاتی سال کے اختتام تک حاصل کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف آندھرا پردیش حکومت نے آر بی آئی سے 2000 کروڑ قرض کی درخواست کی ہے۔ر