استنبول میں آزادی فلسطین کانفرنس ، دنیا بھر سے اہم شخصیتوں کی شرکت
حیدرآباد میں بھی عنقریب عالمی کانفرنس ، ایم اے عرفان کی نیلسن منڈیلا کے پوتے کو دعوت
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ساری دنیا میں اگرچہ کچھ حکومتیں اسرائیل کی در پردہ تائید و حمایت کررہی ہیں لیکن عوام کی اکثریت فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف پر زور انداز میں آواز اٹھا رہے ہیں ۔ اس معاملہ میں عالمی رضاکارانہ تنظیمیں بھی آگے ہیں ۔ چنانچہ استنبول میں 14 تا 15 جنوری دو روزہ ’’ آزادی فلسطین کانفرنس ‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا ۔ جس کا اہتمام پروشلم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ اور ترکیہ کلچر سنٹرل فار اسلامک ورلڈ نے القدس انٹرنیشنل آرگنائزیشن کے اشتراک و تعاون سے کیا تھا ۔ جس میں مختلف ملکوں کے دانشور سیاسی نمائندے عوامی تحریکوں سے وابستہ اہم جہدکار دین اسلام ، عیسائیت اور یہودیت کے مذہبی اسکالرس نے شرکت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطین کو اسرائیلی تسلط سے آزاد کرائیں ۔ ہندوستان سے اس کانفرنس میں انڈور فلسطین سالیڈریٹی فورم کی جانب سے کانگریس لیڈر ایم اے عرفان المعروف Brave Irfan اور فیروز میتھی بور والا نے شرکت کی ۔ اپنے دورہ ترکی سے واپسی پر ایم اے عرفان نے اپنے بھائی انجینئر ایم اے عمران کے ہمراہ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کی ۔ بعد میں سیاست سے بات کرتے ہوئے ایم اے عرفان نے بتایا کہ جنوبی آفریقہ کے رکن پارلیمنٹ مانڈلا منڈیلا نے بطور خاص شرکت کی ۔ وہ جنوبی آفریقہ کے قومی ہیرو اور نوبل لاریٹ نیلسن منڈیلا کے پوتے ہیں ۔ ایم اے عرفان نے مانڈلا منڈیلا سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں عالمی عدالت انصاف میں حکومت جنوبی آفریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کے قتل عام کے الزامات عائد کرتے ہوئے رجوع ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مسلمان جنوبی آفریقہ کی حکومت اور عوام کو اس جرات و بے باکی کے لیے سلام کرتے ہیں ۔ اس کانفرنس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے اس پروفیسر نے بھی شرکت کی جنہیں فلسطین کی تائید اور اسرائیل کی مخالفت پر معطل کردیا گیا تھا ۔ ایم اے عرفان نے مزید بتایا کہ کانفرنس میں انہوں نے اپنے خطاب میں اسرائیل کے خلاف قانونی مزاحمت کو مضبوط بنانے کا مشورہ دیا اور شرکاء کو بتایا کہ جس طرح مہاتما گاندھی نے ہندوستان کو اور نیلسن منڈیلا نے جنوبی آفریقہ کو آزادی دلائی اسی طرح فلسطینیوں کو اسرائیل کے ناجائز قبضے اور مظالم سے آزاد کرانے کے لیے دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ ایم اے عرفان نے حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر عنقریب فلسطین کی تائید میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی ۔ مانڈلا منڈیلا کو دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرلیا ۔ اس کانفرنس میں پرینکا گاندھی اور تشار گاندھی کو بطور خاص مدعو کیا جارہا ہے ۔۔