فلسطینی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹانے کا بیانامریکہ کا نیتن یاہو سے تردید کا مطالبہ

   

واشنگٹن : اسرائیل کے سب سے قریبی اتحادی امریکہ نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بتسلئیل سموتریش کے فلسطینی گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے بیان کی تردید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔خبرساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے قوم پرست مذہبی اتحاد میں آباد کی حامی پارٹی کے سربراہ بتسلئیل سموتریش نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی پر تشدد کارروائیوں اور فلسطینیوں کے حملے کے تناظر میں ایک بیان دیا تھا۔اسرائیلی وزیر سے گزشتہ ہفتہ فلسطینی گاؤں ’حوارہ‘ میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں حوارہ کو صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہیے۔بتسلئیل سموتریش نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں ریاست اسرائیل کو یہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن خدانخواستہ کسی فرد کو نہیں۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بیان کو غیر ذمہ دارانہ، نفرت انگیز اور ناگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سینئر اسرائیلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واضح طور پر اس بیان کو مسترد اور اس سے لاتعلقی اختیار کریں۔ فلسطینی رہنماؤں امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کا خیر مقدم کیا۔