فلمی اداکار سیف علی خان پر حملے کے ملزم کا اقبال جرم

   

لیلاوتی ہاسپٹل سے میڈیکل رپورٹ
ممبئی: سیف علی خان پر حملہ کیس میں آئے روز نئی خبریں آ رہی ہیں۔ پولیس نے ملزم محمد شریف الاسلام کو چند روز قبل گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے سیف کے گھر پر کرائم سین کریٹ کیا تھا۔ پولیس نے چاقو کا تیسرا ٹکڑا بھی برآمد کر لیا ہے جس سے سیف پر حملہ کیا گیا تھا۔ اب اس معاملے میں ایک بڑی اپڈیٹ سامنے آئی ہے۔سیف علی خان پر حملہ کرنے والے ملزم شریف الاسلام نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔محمد شریف شہزاد کے والد کا نام محمد روح الامین ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی اپنے بیٹے سے گزشتہ ہفتے جمعہ کو بات ہوئی تھی۔ محمد روح الامین نے بتایا کہ ان کا بیٹا دستاویزات لے کر ہندوستان نہیں گیا۔ محمد شریف الاسلام موٹر سائیکل سواری کے طور پر کام کرتا تھا۔ ملزم 15 جنوری کی آدھی رات کو سیف علی خان کے گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوا تھا۔ملزم کا سیف علی خان سے جھگڑا ہوا۔ اس دوران سیف علی خان زخمی ہو گئے۔ سیف علی خان پر چھ بار حملہ کیا گیا۔ ملزم حملہ کر کے فرار ہو گیا۔ اس کے بعد سیف کو لیلاوتی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ سیف علی خان کی وہاں سرجری ہوئی۔ سیف کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب چھری گھس گئی تھی۔ تاہم اب سیف علی خان بالکل ٹھیک ہیں۔ انہیں منگل کو ڈسچارج کر دیا گیا۔اسی دوران آج لیلاوتی ہاسپٹل کی جانب سے سیف کی میڈیکل رپورٹ جاری کی گئی ہے جو ایک نیوز چیانل کے پورٹل پر ہے۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ملزم پر قتل کی کوشش کا کیس نہیں بنے گا۔