فلم ’حیدرآباد نواب۔2‘ طنز ومزاح ،سبق آموز فلم

   

Ferty9 Clinic

رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں میں این آر آئیز کی دلچسپی اور اس کے سنگین نتائج کا عکس

حیدرآباد۔11جون(سیاست نیوز) رئیل اسٹیٹ نام سننے میں بہت پیارا لگتا ہے اور ہر رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کا ظاہر’’ رئیل‘‘ نہیں ہوتا بلکہ شہر حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کے نام پر وقت ضائع کرنے والوں کی تعداد میں سال 2005 میں اضافہ دیکھا گیا تھا اور اب غیر مقیم ہندستانی جو ملک واپس ہورہے ہیں وہ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کو رئیل تصور کرنے لگے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ تجارت کی حالت اور رئیل اسٹیٹ کے نام پر کئے جانے والے کاروبار کے ساتھ غیر قانونی وینچرس اور اپارٹمنٹس کے سبب پیدا شدہ صورتحال اور اس کے نتائج پر حیدرآبادی فلم ’’حیدرآباد نواب‘‘ اور فن اینڈ مستی (ایف ایم) کے تیار کنندگان نے ’’حیدرآباد نواب 2‘‘ بنائی ہے جو کہ بہت جلد حیدرآباد کے سینما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ ڈائریکٹر و پروڈیوسر مسٹر راما کرشنا نے معروف حیدرآباد فنکاروں عدنان ساجد (گلو دادا) اور عزیز ناصر ‘ اکبر بن تبر کے علاوہ کے بی جانی کے ہمراہ حقیقت سے قریب یہ فلم تیار کی ہے جو کہ طنز و مزاح کے ساتھ حیدرآبادی نوجوانوں کی حقیقی صورتحال اور رئیل اسٹیٹ کے نام پر انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے ساتھ وقت ضائع کرنے کو پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم میں نہ صرف زمین جائیدادوں کی تجارت اور سینکڑو ایکڑ اراضیات کی معاملات پر کی جانے والی گفتگو کو پیش کیا گیا ہے بلکہ غیر قانونی تعمیرات اور ان تعمیرات کو پراجکٹ و وینچر کے نام دیئے جانے کا بھی سنجیدگی کے ساتھ مضحکہ بنایا گیا ہے۔ فلم ساز نے فلم کی تیاری کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھا ہے کہ فلم بینوں کے لئے یہ فلم نہ صرف سیر و تفریح اور ہنسی و مذاق کا سامان نہ رہے بلکہ اس فلم کے ذریعہ فلم بینوں کو باشعور بنانے کے لئے بھی کوشش کی گئی ہے اور اس مقصد کیلئے سرکاری دفاتر کے حالات اور رئیل اسٹیٹ کے متعلق حکومت کے نئے قوانین کو بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ ریاست شہری علاقو ںمیں بلدی قوانین کی کیا اہمیت ہے اور شہر میں قانونی اجازت ناموں کے ساتھ تیار کی جانے والی عمارتوں کو کیوں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حیدرآباد نواب 2میں فلم ساز و ہدایت کار نے معاشرہ کی اس حقیقت کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی کہ شہر میں رہنے والوں کو ذاتی مکان کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور ذاتی مکان کیلئے شہری قوانین کی پرواہ تک نہیں کرتے لیکن جب غیر قانونی جائیدادوں کو ذاتی جائیداد بنا لیا جاتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں وہ بھی اس فلم میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے اور عوام کو اس طرح کے پراجکٹس سے دور رکھنے کیلئے تیار کی جانے والی فلم صرف تفریح کا سامان نہیںہے بلکہ اس فلم کے ذریعہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے علاوہ نوجوانوں کو رئیل اسٹیٹ کی فرضی چمکدار دنیا سے باہر نکالتے ہوئے انہیں حقیقی حالات سے واقف کروانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ مسٹر راما کرشنا پروڈیوسر و ڈائریکٹر ’’حیدرآبادنواب 2‘‘ نے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ حیدرآبادی فلم دراصل دکنی زبان میں تیارکی جانے والی فلم ہیں اور ان فلموں کو ملک کے علاوہ بیرون ملک میں بھی زبردست پذیرائی حاصل ہورہی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ حیدرآباد فلم سازوں کی جانب سے طنز و مزاح کے علاوہ تفریح کا سامان فراہم کرنے کے ساتھ عوام کی زندگی سے جڑے موضوعات اور حقائق سے قریب فلم کی تیار ی عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلم کے ذریعہ فلم بینوں کو کوئی مثبت پیغام دیاجائے۔مسٹرام کرشنا نے بتایا کہ سابق میں ان کی فلموں میں بھی اسی طرح کا پیغام دینے کی کامیاب کوشش کی گئی جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اب حیدرآباد نواب 2کے ذریعہ شہریوں کو رئیل اسٹیٹ کی ’’رئیل ‘‘ دنیا سے متعارف کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہو ںنے فلم کی ریلیز کے سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر بتایا کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں یا آئندہ ماہ کے اوائل میں ’’ حیدرآباد نواب 2‘‘ ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کردی جائے گی ۔انہو ںنے بتایاکہ سینما گھروں میں فلم دیکھنے کے لئے پہنچنے والوں میں اگر شعور اجاگر ہوتا ہے تو وہ اسے فلم کی کامیابی تصور کرتے ہیں۔ معروف حیدرآباد اداکار و فنکار عزیز ناصر نے فلم حیدرآباد نواب 2کی کہانی لکھی ہے اور اس فلم میں عوامی تفریح کیلئے نغمے بھی شامل کئے گئے ہیں۔