کابل، 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) فوزیہ کوفی کو بچپن سے ڈاکٹر بننے کا خواب تھا لیکن وہ خواب تب ٹوٹ گیا جب افغانستان میں طالبان نے قبضہ کر لیا۔ انھوں نے فوزیہ کے شوہر کو جیل میں ڈال دیا۔ وہاں فوزیہ کے شوہر تپِ دق میں مبتلا ہو گئے، پھر رہائی کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔ بعد میں فوزیہ سیاست میں آ گئیں اور طالبان نے انھیں قتل کرنے کی کوشش بھی کی مگر اس سب کے باوجود فوزیہ نے طالبان سے مذاکرات کرنے کی ہمت کی۔ بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ملک کی ترجمانی کر رہی تھی، میں افغانستان کی عورتوں کی ترجمانی کر رہی تھی۔ فروری 2019ء میں فوزیہ خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کارکنان کے ہمراہ ماسکو کے ایک ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئیں جو 70 مردوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کمرے کے ایک جانب طالبان کا وفد تھا۔ انھوں نے اپنی مخصوص پگڑیاں پہن رکھی تھیں اور ان کی لمبی داڑھیاں تھیں۔ دوسری جانب دو خواتین نے باقی سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے درمیان اپنی نشستیں سنبھالیں، جو سبھی مرد تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں خودفزدہ نہیں تھی، میرے لیے ہمت اور اختصار سے کام لینا اہم تھا۔ کوفی ان چند خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے طالبان کے ساتھ بہت سے مذاکرات کے ادوار میں حصہ لیا ہے۔