سابق وزیر ہریش راؤ اورپولیس عہدیدار رادھا کشن کو بڑی راحت
حیدرآباد۔/19 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے فون ٹیاپنگ معاملہ میں سابق وزیر ہریش راؤ اور سابق ڈی سی پی رادھاکشن راؤ کو راحت دی ہے۔ پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمہ کی تحقیقات پر ہائی کورٹ نے آج حکم التواء جاری کردیا۔ عدالت نے کہا کہ پٹیشن پر آئندہ سماعت تک تحقیقات کے سلسلہ میں کوئی بھی کارروائی نہ کی جائے۔ اس طرح ہائی کورٹ نے پنجہ گٹہ پولیس کی جانب سے تحقیقات پر روک لگادی ہے۔ واضح رہے کہ سدی پیٹ سے تعلق رکھنے والے رئیل اسٹیٹ تاجر چکرادھر گوڑ نے پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں شکایت کی تھی کہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر ہریش راؤ نے سابق ڈی سی پی رادھا کشن راؤ کے ذریعہ ان کا ٹیلی فون ٹیاپ کیا تھا۔ پنجہ گٹہ پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے ہریش راؤکو A1 اور رادھا کشن راؤ کو A2 کے طور پر شامل کیا۔ پولیس نے ہریش راؤ کے کیمپ آفس میں سابق میں خدمات انجام دینے والے کمپیوٹر آپریٹر کو گرفتار کیا۔ ہریش راؤ اور رادھا کشن راؤ نے پولیس ایف آئی آر کو کالعدم کرنے کیلئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ ہائی کورٹ نے گذشتہ سماعت کے موقع پر ہریش راؤ اور رادھا کشن راؤ کو گرفتاری سے استثنیٰ دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے نامور قانون داں سدھارت لوترا اس مقدمہ میں بحث کریں گے جس کی اطلاع پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کو دی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دیگر مقدمہ کے سلسلہ میں سدھارت لوترا مصروف ہیں لہذا آئندہ تاریخ کا تعین کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے تحقیقات پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 3 مارچ کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ ہریش راؤ اور رادھا کشن راؤ بی آر ایس دور حکومت میں فون ٹیاپنگ معاملہ میں بھی ملزمین کے طور پر شامل ہیں جس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔1