دس ماہ جیل میں رہنے کے بعد راحت، ضمانت کے خلاف حکومت کو عدالت سے رجوع ہونے کی اجازت
حیدرآباد ۔27۔جنوری (سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ معاملہ میں سپریم کورٹ میں ایڈیشن ایس پی تروپتنا کو ضمانت منظور کردی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ سے درخواست گزار جیل میں ہیں اور پولیس نے مقدمہ کے سلسلہ میں چارج شیٹ داخل کردیا ہے، لہذا درخواست گزار کے مزید جیل میں رہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی تروپتنا کو ہدایت دی کہ وہ تحقیقات میں پولیس سے مکمل تعاون کریں اور تحقیقات میں مداخلت سے گریز کریں۔ گواہوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ تروپتنا کے مقدمہ کی بنیاد پر ریاستی حکومت ضمانت کی منسوخی کیلئے عدالت سے رجوع ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پاسپورٹ کی منسوخی اور ضمانت کی دیگر شرائط کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔ تلنگانہ حکومت کے وکیل سدھارت لوترا نے ضمانت کی مخالفت کی اور کہا کہ تروپتنا فون ٹیاپنگ مقدمہ کے اہم ملزم ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مقدمہ میں تروپتنا کے رول کا تعین کرنے کیلئے مزید چار ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ مقدمہ میں بعض اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنا ابھی باقی ہے ، لہذا ضمانت کی منظوری سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین کی ہدایت پر ہائی کورٹ کے ججس کے ٹیلیفون بھی ٹیاپ کئے گئے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے فوری بعد ملزمین نے فون ٹیاپنگ کے ثبوتوں کو ختم کردیا ہے ۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ تروپتنا کو ہدایت دی جائے کہ وہ اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ مقدمہ کے دو اہم ملزمین ابھی بھی ملک کے باہر ہیں۔ ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد کئے جانے کے بعد تروپتنا سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ۔ جسٹس بی وی ناگا رتنا اور جسٹس ستیش چندرا پر مشتمل بنچ نے درخواست کی سماعت کی اور ضمانت کو منظوری دی۔ واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی قائدین کے اشارہ پر مخالفین کے ٹیلیفون ٹیاپ کئے گئے تھے اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔1