انتخابی اصلاحات کے تحت عنقریب رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کا امکان
حیدرآباد۔14ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے فہرست رائے دہندگان کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کے علاوہ انتخابات میں بائیو میٹرک نشان کے ذریعہ رائے دہندوں کی شناخت کے اقدامات کئے جائیں گے! مرکزی حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے تحت جلد ہی فہرست رائے دہندگان کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کا امکان ہے۔ اس ضمن میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کیا جا رہاہے جس کے ساتھ ہی احکاما ت کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی ۔ ملک بھر میں فہرست رائے دہندگان میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لئے موصول ہونے والی متعدد نمائندگیوں اور ایک ہی فرد کے ایک سے زائد مرتبہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی موجودگی کی نشاندہی کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے دوران فہرست رائے دہندگان کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ فہرست رائے دہندگان کو نقائص سے پاک بنانے کیلئے یہی ایک راستہ ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے جاریہ ماہ کے اواخر تک مرکزی حکومت کو اس سلسلہ میں سفارشات روانہ کئے جانے کا امکان ہے اور گذشتہ ماہ فہرست رائے دہندگان کو آدھار سے مربوط کرنے کے سلسلہ میں تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران اہم فیصلہ کیا جاچکا ہے لیکن ان فیصلوں سے حکومت کو باضابطہ طور پر ابھی واقف نہیں کروایا گیا ہے۔ ملک بھر میں کوئی بھی سیاسی جماعت فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے آدھار کارڈ کوفہرست رائے دہندگان سے مربوط کرنے کی تائید نہیں کی جار ہی ہے لیکن بیشتر سیاسی جماعتوں کے ایسے امیدوار جو کہ انتخابات میں شکست کا سامنا کرچکے ہیں ان کا کہناہے کہ اگر فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں انتخابات کے دوران تلبیس شخصی کے عمل کو روکا جانا ممکن نہیں ہوگا ۔ م