عنقریب بنڈی کو ڈنڈی دکھائی جائے گی ، عثمان خان کا ردعمل
حیدرآباد :۔ کانگریس قائد فیروز خاں کی جانب سے مسلمانوں کی دل آزاری کے خلاف کانگریسی قائدین میں برہمی پائی جاتی ہے ۔ فیروز خاں کے دست راز سمجھے جانے والے عثمان خاں نے بھی فیروز خاں کے بیان کی سخت مذمت کی ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے آرگنائزنگ سکریٹری عثمان محمد خاں نے اپنے بیان میں افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پرانے شہر کے مسلمانوں اور سرجیکل اسٹرائیک کے تعلق سے فیروز خاں کا بیان ناقابل برداشت ہے اور فیروز خاں کو اپنے اس دل آزاری والے بیان پر وضاحت کرنی چاہئے ۔ عثمان محمد خاں نے کہا کہ امن کے گہوارے ملک میں جناح اور گوڈسے کی پالیسی میں چلنے والی اور شہر کی عوام بہت جلد بنڈی کو ڈنڈی بتائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کے لیے سب سے پہلے اسلام ہے اللہ اور اس کے رسولؐ کی تعلیمات اور قرآن مجید سے زیادہ افضل کوئی نہیں ۔ عثمان محمد خاں بہار میں اسد اویسی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ فرانس کے گستاخ رسولؐ کو ہلاک کرنے والے ایک شامی شہری شہید نوجوان کو اسد اویسی نے دہشت گرد قرار دیا جب کہ گستاخ رسول واجب قتل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چاہے اسد اویسی ہوں یا پھر فیروز خاں انہیں مذہب کی سیاست کرنے کی اور مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے اپنے بیان میں وطن سے محبت کے متعلق حدیث شریف کا حوالہ دیا اور کہا کہ مسلمان کو وطن سے محبت کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات زور دیتی ہے اور نبی رحمت ؐ نے اپنی تعلیمات میں وطن سے محبت کا درس دیا اور موجودہ دور میں حالات چاہے جیسے بھی ہوں مسلمان اپنے نبی کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے وطن عزیز پر جان نچھاور کردے گا اور اس کے لیے کسی بھی موقع پرست مفاد پرست یا پھر فرقہ پرست سے اسے سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے گستاخ رسولؐ شہید شامی نوجوان کو دہشت گرد قرار دینے والے اسد اویسی کو اپنا محاسبہ کرنے کی تلقین کی اور فیروز خاں و اسد کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی فائدہ کے لیے مذہب کو استعمال کرنا چھوڑ دیں اور اپنے انجام کی فکر کریں ۔ انہوں نے کہا ہم کانگریس کے سپاہی ہیں اور فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کو بچانا اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔
