ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طلبہ کے تقریبا 3350 کروڑ روپئے کے بقایا جات کی عدم اجرائی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں بروقت فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے انٹر تا انجینئرنگ کالجس مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں ۔ تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ سرٹیفیکٹس حاصل کرنے کے لیے پہونچنے پر کالجس انتظامیہ کی جانب سے فیس کی ادائیگی پر ہی سرٹیفیکٹس دینے کا واضح ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ سال 2019-20 سے ابھی تک تقریبا 3350 کروڑ روپئے کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایا جات ہیں جس سے ریاست کے 15 لاکھ طلبہ مشکلات سے دوچار ہیں ۔ دوسری طرف کالجس کو چلانا انتظامیہ پر بوجھ ثابت ہورہا ہے ۔ جس سے وہ بھی تشویش کا شکار ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بقایا جات کی اجرائی میں مزید تاخیر کی جاتی ہے تو کالجس کو بند کردینے کی نوبت آجائے گی ۔ حکومت نے ماضی میں فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کے بقایا جات قسطوں پر ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ جاری کرنے کے رہنمایانہ خطوط جاری کئے تھے ۔ تعلیمی سال کے آغاز پر 25 فیصد درمیان میں 50 فیصد اور تعلیمی سال کے اختتام تک مزید 25 فیصد فیس جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم اس سسٹم پر عمل نہیں کیا گیا ۔ گذشتہ تعلیمی سال بقایا جات مکمل جاری نہیں کئے گئے گذشتہ دو سال کے تقریبا 3350 کروڑ روپئے کے بقایا جات زیر التواء ہیں حکومت کی جانب سے بقایا جات کی عدم اجرائی سے کالجس انتظامیہ طلبہ کو سرٹیفیکٹس دینے سے انکار کررہے ہیں ۔ جس سے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور ملازمتوں کے لیے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ والدین کی جانب سے قرض حاصل کر کے کالجس کو ادا کرنے پر ہی سرٹیفیکٹس جاری کئے جارہے ہیں جس سے طلبہ کے والدین پر حاصل کردہ قرض پر سود کا بوجھ بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ چند کالجس کی جانب سے فیس کی ادائیگی پر ہی امتحان تحریر کرنے کی اجازت دینے کا طلبہ کو انتباہ دیا جارہا ہے ۔۔ ن