فیفا ورلڈ کپ 2034 ،سعودی عرب نے میزبانی کی بولی دی

   

ریاض : فیفا ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی نہ صرف مملکت کی ثقافتی اور انتظامی صلاحیتوں کو ابھارے گی بلکہ مملکت میں متعدد ملازمتوں کی تخلیق اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہو گی۔خبر کے مطابق سعودی عرب واحد ملک ہے جس نے فٹ بال ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے بولی جمع کرائی ہے اور فیفا کی جانب سے اس فیصلے پر 11 دسمبر کو مہر تصدیق ثبت کی جائے گا۔فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کے حوالے سے اقتصادی ماہرین کے مطابق قطرمیں فیفا ورلڈ کپ 2022 کے بعد یہ دوسرا موقع ہوگا جب عالمی شہرت یافتہ بڑے ایونٹ کا انعقاد مشرق وسطیٰ میں ہوگا۔اقتصادی ماہرین کے مطابق فٹ بال کے اس عالمی ایونٹ کے لیے 15 لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع کے علاوہ مہمانوں کی رہائش کے لیے پانچ میزبان شہروں میں بنائے جانے والے ہوٹلوں میں 230,000 کمروں کی تعمیر کی توقع کی جا رہی ہے۔ریاض کی الیمامہ یونیورسٹی میں معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ریسرچ کے ڈائریکٹر یاسین غلام کا خیال ہے کہ فیفاورلڈ کپ 2034 براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، سیاحت کو فروغ دینے اور آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔سعودی ویژن 2030 کے مقاصد سے ہم آہنگ یہ ایونٹ مملکت کو نہ صرف انتظامی صلاحیتوں اور ثقافتی پروگراموں کو فروغ دینے بلکہ اس سے بھی اہم یہ کہ سعودی عرب میں اس وقت موجود سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید وسعت دینے میں کارگر ثابت ہوگا۔
یہ عالمی تقریب مملکت میں اسٹیڈیمز، ہوٹلز اور سڑکوں کے علاوہ تربیتی سہولیات، لاجسٹک نیٹ ورکس اور سیاحتی مقامات سمیت جدید ترین سہولیات کی فوری تعمیر کے لیے اہم عزم کا تقاضا کرتی ہے۔اکنامک ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ریسرچ ڈائریکٹر یاسین غلام نے بتایا برازیل میں ہونے والے ورلڈ کپ کی لاگت 18 بلین ڈالر تھی جب کہ روس نے اس ایونٹ کے لیے 13 بلین ڈالر خرچ کیے، جس میں ا?دھی رقم انفراسٹرکچر کے لیے مختص کی گئی، جن میں 12 سٹیڈیم، ہسپتال، ہوائی اڈے، ٹرین اسٹیشن، موٹر ویز اور نئے ہوٹلز کی تعمیر شامل تھی۔ماہر معاشیات نے مزید وَضاحت کی کہ ورلڈ کپ کی میزبانی سے بالواسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔قطر نے فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی کے لیے ایک دہائی کے دوران 200 سے 300 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی لیکن نئے سٹیڈیمز پر خرچ ہونے والی رقم 7 بلین ڈالر سے زیادہ نہیں تھی، زیادہ تر رقم انفراسٹرکچر کی ترقی پر خرچ کی گئی تھی۔ماہرین اقتصادیات کا اندازہ ہے کہ مہمانوں کے اخراجات اور نشریاتی حقوق سے حاصل ہونے والے قلیل مدتی فوائد عالمی جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد ہیں۔