فینانسرس کے ظلم سے خاندان کی اجتماعی خودکشی

   

رشتہ داروں کا الزام ۔ نعشیں ورثاء کے حوالے کردی گئیں
حیدرآباد 9 جنوری ( سیاست نیوز ) تلنگانہ نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے چار افراد کی کل وجئے واڑہ آندھرا پردیش میںخود کشی کی وجہ فینانسرس کی ہراسانی بتائی جا رہی ہے ۔ نظام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے کل وجئے واڑہ میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ خود کشی کرلی تھی ۔ اب ان کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا کہ کچھ فینانسرس اور مالیاتی اداروں کی ہراسانی کی وجہ سے اس خاندان کی خود کشی کی ہے ۔ 57 سالہ پی سریش ‘ 49 سالہ پی سری لتا ‘ 26 سالہ پی آشیش اور 24 سالہ پی اکھل نے کل خود کشی کرلی تھی ۔ سری لتا اور آشیش نے نامعلوم انجکشن لیتے ہوئے اپنی جان گنوائی جبکہ سریش اور اکھل نے دریائے کرشنا میں چھلانگ لگا کر خود کشی کی ۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس انتہائی اقدام سے قبل ان تمام نے خود کشی نوٹ تحریر کئے ہیں اور ان افراد کے نام ظاہر کئے ہیں جو قرض واپس حاصل کرنے انہیںہراساں کر رہے تھے ۔ سریش نے ایک سیلفی ویڈیو بھی اپنے رشتہ داروں کو روانہ کیا جس میں خود کشی کی وجوہات بھی بتائی گئیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ سریش نے ان افراد کی تفصیل بتائی جو ان پر دباؤ ڈال رہے تھے ۔ اس دباؤ کو سے دلبرداشتہ ہوکر اس خاندان نے خود کشی کی تھی ۔ پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی نعشیںرشتہ داروں کے حوالے کردی گئیں۔