سابق حکومت کے سینئر عہدیدارہونے کے باوجودریونت ریڈی نے برقرار رکھا
حیدرآباد۔/13فروری، ( سیاست نیوز ) عام طور پر حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی عہدیداروں کی تبدیلی عمل میں آتی ہے اور نئی حکومت اپنی پسند کے عہدیداروں کا اہم عہدوں پر تقرر کرتی ہے تاکہ نظم و نسق بہتر طور پر کام کرے۔ تلنگانہ میں بی آر ایس کی شکست اور کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد پولیس اور سیول کے ہر سطح پر عہدیداروں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی کی گئی۔ سابق حکومت سے قربت رکھنے والے تمام عہدیداروں کا تبادلہ کرتے ہوئے اپنے بااعتماد عہدیداروں کا تقرر کیاگیا۔ بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے اس مرحلہ میں اسپیشل چیف سکریٹری فینانس کے رام کرشنا راؤ خوش قسمت ثابت ہوئے ہیں جنہیں ریونت ریڈی حکومت نے نہ صرف عہدہ پر برقرار رکھا بلکہ حکومت کے پہلے عبوری بجٹ کی تیاری کا موقع دیا۔ کے رام کرشنا راؤ کو تلنگانہ کے 9 بجٹ تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ رام کرشنا راؤ کا 29 فروری 2016 کو سکریٹری فینانس کی حیثیت سے تقرر کیا گیا جس کے بعد سے وہ اسی عہدہ پر برقرار ہیں اور وہ اسپیشل چیف سکریٹری فینانس کے عہدہ پر ترقی حاصل کرچکے ہیں۔ بی آر ایس کے 8 اور کانگریس حکومت کا ایک بجٹ تیار کرنے کا انہیں اعزاز حاصل ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رام کرشنا راؤ نے اپنی کارکردگی میں ہمیشہ غیر جانبداری کو ملحوظ رکھا اور سیاسی شخصیتوں کا اثر قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ریونت ریڈی نے انہیں حکومت کے پہلے بجٹ کی تیاری کا موقع دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا الیکشن کے بعد چیف منسٹر ایسے عہدیداروں کو تبدیل کرسکتے ہیں جو طویل عرصہ سے ایک محکمہ میں برقرار ہیں۔1