فیول قیمتوں میں اضافہ کا پھر آغاز

   

Ferty9 Clinic

ادنیٰ سہی چراغ کو روشن تو کرکے دیکھ
رکتے نہیں اندھیرے اجالوں کے سامنے
تقریبا ساڑھے چار ماہ کے وقفہ کے بعدپٹرول ‘ ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ اترپردیش کے بشمول پانچ ریاستوں میںاسمبلی انتخابات کے پیش نظر قیمتوں میںاضافہ کا سلسلہ نومبر سے روک دیا گیا تھا اور اب ایک بار پھر اس کی شروعات ہوگئی ہے ۔ ساڑھے چار مہینوں میں حالانکہ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن ملک میں قیمتوں میں استحکام رکھا گیا تھا ۔ دنیا بھر میں کورونا وباء کے بعد معیشتیں مستحکم ہونے لگی تھیں جن کی وجہ سے قیمتوں میںاضافہ ہو رہا تھا ۔ پھر روس اور یوکرین کے مابین جنگ شروع ہوگئی اس کے نتیجہ میں بھی فیول کی قیمتیں بڑھنے لگی ہیں۔ تاہم ہندوستان امریکہ اور دوسرے یوروپی ممالک کی ناراضگی کے باوجود روس سے سستے داموں میں تیل خرید رہا ہے ۔ ایسے میں عوام پر بوجھ عائد کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے تھا ۔ تاہم اب جبکہ فوری طور پر ملک کی کسی بھی ریاست میںانتخابات نہیںہیں اور عوام کے درمیان پہونچنا نہیں ہے ایسے میں قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ جس وقت اضافہ کا سلسلہ روکا گیا تھا اس وقت یومیہ نظر ثانی کرتے ہوئے معمولی اضافہ ہوا کرتا تھا اور کمی بھی معمولی ہوا کرتی تھی تاہم اب اچانک ہی پٹرول پر فی لیٹر 80پیسے ‘ ڈیزل پر 90 پیسے اور پکوان گیس پر فی سلینڈر 50 روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ صرف غیر سبسڈی والی گیس پر قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے کئی شہروں میں حکومت کی جانب سے پکوان گیس پر سبسڈی نہیں دی جا رہی ہے ۔ جن غریب خواتین کو اجولا اسکیم کے تحت سلینڈرس دئے گئے ہیں انہیں بھی مارکٹ قیمتوں پر ہی گیس خریدنی پڑ رہی ہے اور سلینڈر کی قیمت میںاضافہ کا راست بوجھ ان پر بھی عائد ہوگا ۔ مودی حکومت نے غریب عوام پر عائد ہونے والے بوجھ کو پیش نظر نہیں رکھا ہے اور ان پر عائد ہونے والا بوجھ ان کی زندگیوںکو متاثر کرسکتا ہے ۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت تھی ۔ فیول قیمتوں میںاضافہ کے نتیجہ میں دوسری ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ ہوسکتا ہے ۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے نومبر میں پٹرول پر فی لیٹر پانچ روپئے اور ڈیزل پر فی لیٹر دس روپئے کی کٹوتی کی تھی ۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت اب چار ماہ کے نقصان کو عوام پر بوجھ عائد کرتے ہوئے پورا کرنا چاہتی ہے ۔ عوام پر عائد ہونے والے بوجھ اورا ن کو پیش آنے والی مشکلات کی حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ روس سے ڈسکاونٹ قیمت پر تیل کی خریدی کے باوجود قیمتوں میںاضافہ کا فیصلہ قابل فہم نہیںکہا جاسکتا ۔ پٹرول اور ڈیزل کا استعمال ملک بھر میں بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں دوسری اشیا پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ چارجس میں اضافہ کی وجہ سے اشیائے ضروریہ اور ترکاری تک مہنگی ہوجاتی ہے ۔ اس کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے ۔ مارکٹ کے اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت کو لچکدار موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا کوئی میکانزم تیار کرنے پر توجہ کرنی چاہئے جس کے نتیجہ میں عوام پر مسلسل بوجھ عائد کرنے کا سلسلہ رک سکے ۔ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاہم اس کیلئے حکومت کو ٹیکس اور اکسائز ڈیوٹی وغیرہ میں کمی کرنی چاہئے ۔ مرکزی حکومت تاہم ایسا کرتی نظر نہیں آتی اور اسے عوام پر بوجھ عائد کرنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں ہو رہا ہے ۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد حکومت عوام پر عائد ہونے والے بوجھ سے اور بھی بے پرواہ ہوگئی ہے اور یہ اچھے آثار نہیں کہے جاسکتے ۔
پٹرولیم اشیا پر من مانی انداز میں ٹیکس اور اکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے ۔ پٹرولیم اشیا کو بھی جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں لاتے ہوئے ان پر محاصل کی ایک حد مقرر کی جاسکتی ہے لیکن حکومت ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے کیونکہ اس سے حکومت کی آمدنی متاثر ہوگی ۔ حکومت کارپوریٹس پر ٹیکس عائد کرنے کی بجائے عوام پر بوجھ عائد کر رہی ہے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ کورونا وباء کے دوران کروڑوں افراد کی نوکریاں ختم ہوگئی ہیں اور وہ کئی مسائل کا شکار ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ کو دراز ہونے سے روکنے اور انہیں مستحکم رکھنے کیلئے ایک جامع اور موثر میکانزم کی تیاری پر حکومت کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔