ملک میں فیول قیمتوں میں اضافہ اور عوام پر بوجھ عائد کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے ۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ماہ نومبر سے ان قیمتوں میں اضافہ کو روک دیا گیا تھا اور انتخابات کا عمل پورا ہوتے ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اضافہ کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا گیا ہے ۔ تقریبا روزآنہ قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور عوام پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انتہائی مشکلات کے باوجود عوام صرف ناراضگی ظاہر کرنے پر اکتفاء کر رہے ہیں اور احتجاج کا راستہ اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کا سوال ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو پوری تندہی کے ساتھ انجام دینے سے خوفزدہ ہیں۔ کوئی بھی اپوزیشن جماعت فیول قیمتوں کے مسئلہ پر حکومت کو گھیرنے یا سڑکوں پر اترکر احتجاج کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ کانگریس ہو یا دوسری ریاستی اور علاقائی جماعتیں ہوں سبھی صرف بیان بازحاں کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ مہنگائی کی پیش قیاسیاں کی جا رہی ہیںاور کہا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے عوام پر بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ یہ سارا کچھ بیان بازیوں تک محدود ہے ۔ اس مسئلہ کو سڑکوں پر اترتے ہوئے عوام کے درمیان لانے کیلئے کوئی بھی جماعت تیار نظر نہیں ہے ۔ یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ہر اپوزیشن جماعت حکومت سے خوفزدہ ہوگئی ہے ۔ حکومت کے خلاف کھلی مہم چلانے سے یہ جماعتیں گریزاں ہیں ۔انہیں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا خوف ہے یا پھر یہ بھی خوف ہے کہ دوسری جماعتیں ان کا ساتھ نہیں دینگی اور اس احتجاج میں وہ یکا و تنہا ہوجائیں گی ۔ یہ حقیقت ہے کہ آج ملک میں کوئی بھی جماعت حکومت سے ٹکراو کا راستہ اختیار کرنے کے موقف میں نیہں ہے لیکن ان جماعتوں کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ا نہیں احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے اور وہ عوامی مسائل پر ہی احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتی ہیں۔ حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا خوف اگر ستاتا رہے تو پھر وہ سیاسی میدان میں کمزور ہی رہیں گی ۔
کانگریس نے اپنے طور پر ایک ہفتہ طویل احتجاجی پروگرامس کا اعلان کیا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف ضابطہ کی تکمیل کیلئے ہے ۔ اس کیلئے ایک جامع پروگرام تیار کرتے ہوئے اس مسئلہ کو راست عوام سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک عوام کو اس مسئلہ سے واقف نہیں کروایا جائیگا حکومت کو قیمتوں میںاضافہ سے روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی ۔ حکومت کو اب یہ احساس ہوچلا ہے کہ وہ چاہے جتنی مہنگائی کرلے اس کے پاس انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا گر آچکا ہے اور اسے شکست دینا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ اسی تاثر کے باعث حکومت مہنگائی میں اضافہ کو روکنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ حکومت عوام پر مسلسل بوجھ عائد کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کرتی جا رہی ہے ۔ انتخابات میں بی جے پی کے امکانات متاثر نہیں ہو رہے ہیں ۔ اپوزیشن کو عوام کی خاطر خواہ تائید نہیں مل رہی ہے ۔ جب تک اپوزیشن جماعتوں کو یہ احساس نہ ہوجائے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں اور وہ عوامی مسائل پر جدوجہد کرتے ہوئے کسی بھی طرح کی انتقامی کارروائی کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں وہ حکومت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات نہیں کرسکتے ۔ انہیں حکومت سے ٹکراؤ سے گریز کرنے کے مزاج کو بدلنا ہوگا ۔ عوام کی عدالت میں رجوع ہونے کیلئے عوام کے مسائل کو اٹھانا ضروری ہے ۔ عوام کی معاشی حالت اور ان پر عائد ہونے والے لگاتار بوجھ کے خلاف انہیں خود عوام ہی کو ساتھ لے کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔
جس طرح حکومت مہنگائی میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر بوجھ عائد کرنے کی ذمہ دار ہو رہی ہے اسی طرح یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس مہنگائی کے خلاف حکومت کو روکنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ وہ عوامی مسائل پر جدوجہد میں ناکام ہو رہی ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں خوف کے ماحول سے باہر آئیں۔ حکومت سے ٹکراؤ کی ہمت اپنے آپ میں پیدا کریں۔ نتائج کی پرواہ کئے بغیر عوامی مسائل کے ساتھ سڑکوں پر اتر آئیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہی اپوزیشن جماعتیں اپنی ذمہ داری نبھا سکتی ہیں اور عوام میں اپنا مقام بحال کرسکتی ہیں۔
