فیول پر تلنگانہ و آندھرا میں ویاٹ

   

Ferty9 Clinic

کل تو سب تھے کارواں کے ساتھ ساتھ
آج کوئی راہ دکھلاتا نہیں
ملک بھر میں حکومتوں کی جانب سے پٹرولیم اشیا پر اپنے اپنے محاصل اور ٹیکس میں کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ضمنی انتخابات کے نتائج میں جھٹکا لگنے کے بعد مرکزی حکومت نے اپنے محاصل میں کمی کی ۔ اس نے پٹرول پر پانچ روپئے اور ڈیزل پر دس روپئے اکسائز ڈیوٹی میں کمی کی ۔ اس کے بعد کچھ ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں نے بھی اپنے طور پر ریاستی سطح پر عائد کئے جانے والے ویاٹ اور دیگر ٹیکسوں میں کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانے کا کام کیا ہے ۔ آج ہی پنجاب میں کانگریس کی حکومت نے پٹرول پر راست 10 روپئے ٹیکس کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچائی ہے اور چیف منسٹر پنجاب چرنجیت سنگھ چنی کا دعوی ہے کہ ملک کی آزادی کے 70 سال میں پہلی بار کسی حکومت نے پٹرول قیمت میں بیک وقت اتنی زیادہ کمی کی ہے ۔ کرناٹک میں بھی حکومت کی جانب سے پٹرول کے ساتھ ڈیزل کی قیمت میں زیادہ راحت دی گئی ہے ۔ کئی اور ریاستوں کی جانب سے بھی عوام کو بوجھ سے بچانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں فی الحال ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے اور جو آثار و قرائن ہیں ان کے مطابق فوری طور پر حکومتوں کی جانب سے ایسے کسی فیصلے کے امکانات بھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔ آندھرا پردیش میں سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست کا مالی موقف ایسا نہیں ہے کہ پٹرولیم اشیا پر محاصل میں کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت دی جائے ۔ کہا جا رہا ہے کہ سرکاری خزانہ کی حالت مستحکم نہیں ہے اس لئے عوام کو راحت دینے کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ تلنگانہ میں بھی حکومت نے حالانکہ دوسری ریاستوں میں کئے جانے والے فیصلوں کا جائزہ لینے کے اشارے دئے ہیں لیکن ابھی تک باضابطہ طور پر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ یہاں بھی پٹرولیم اشیا پر ریاستی سطح کے ویاٹ میں کمی کرتے ہوئے عوام کو کوئی راحت دی جائے گی ۔ دوسری ریاستوںکے عوام کو حکومتوں سے وقتی طور پر تو راحت مل رہی ہے لیکن دونوں تلگو ریاستوں کے عوام کو ابھی تک ایسی راحت نہیں مل سکی ہے ۔
تلنگانہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو اور کئی وزراء کا بارہا یہ ادعا ہے کہ ریاست کا معاشی موقف مستحکم ہے اور کورونا وباء اور لاک ڈاون کے دوران جو معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی تھیں وہ بحال ہو رہی ہیں۔ ریاست تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔ ایسے میں اس ترقی کے ثمرات کا فائدہ عوام کو پہونچانے سے حکومت کو گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ حکومت کی جانب سے حالانکہ کروڑہا روپئے کی اسکیمات کا اعلان کیا جا رہا ہے اورا بتدائی مراحل میں اس کی تشہیر کے بعد عملا ان اسکیمات کو روک دیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ پٹرولیم اشیا پر مرکز کی اکسائز ڈیوٹی کے علاوہ ریاستی سطح پر الگ سے ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں عوام پر بوجھ عائد ہوتا جا رہا ہے ۔ عموما اس بوجھ کیلئے مرکزی حکومت کو ہی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاستی حکومتیں بھی اس بوجھ میں اضافہ کیلئے برابر کی ذمہ دار ہیں۔ مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتیں بھی محاصل عائد کرتے ہوئے عوام پر بوجھ میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔ اس صورتحال میں تلنگانہ ہو یا آندھرا پردیش ہو دونوں ہی حکومتوں کو عوام پر عائد ہونے والے بوجھ کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ قیمتوں میں یومیہ اساس پر مسلسل اضافہ کرتے ہوئے جو بوجھ عائد کردیا گیا ہے وہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسے میں حکومتوں کو چاہئے کہ عوام کوراحت دینے کے تعلق سے غور کریں۔ سرکاری خزانہ کی آمدنی کے مختلف ذرائع ہوسکتے ہیں لیکن اس کیلئے عوام کو راحت پہونچانے سے گریز نہیں کیا جانا چاہئے ۔
ملک کی مختلف ریاستوں میں ایسا کیا گیا ہے ۔ کئی حکومتوں نے سرکاری خزانہ پر بوجھ کو برداشت کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بعض ریاستی حکومتوں نے دوسروں سے زیادہ راحت پہونچائی ہے اور اپنی آمدنی کو کم کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ ایسے میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں بھی حکومتوں کو جلد اس تعلق سے فیصلہ کرتے ہوئے مناسب اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔ فیول کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے اس پر بھی قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے اگر یہاں بھی ویاٹ میں کمی کی جائے ۔ عوامی بہتری کے دعوے کرنے والی حکومتوں کو اس معاملے میں دوسری ریاستوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے اور حقیقت میں عوام کو راحت فراہم کرنے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔