فیڈرر کی ریکارڈ کوارٹر فائنل میں رسائی

   

ومبلڈن ۔ راجر فیڈرر نے بہ آسانی لورینزو سونیگو کو 7-5،6-4، 6-2 سے شکست دے کر 18 ویں مرتبہ ومبلڈن کے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی ہے۔ فیڈرر کے لئے یہیں ریکارڈ کا اختتام نہیں ہوا بلکہ وہ اوپن ایرا میں ومبلڈن کے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرنے والے معمر ترین کھلاڑی بن چکے ہیں۔ فیڈرر 39 سال اور 337 دن کی عمر میں کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی ہے اور اس طرح انہوں نے 1974 میں کین روس وال کی جانب سے 39 سال 224 ویں دن کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرنے کا قدیم ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ علاوہ ازیں فیڈرر 58 ویں مرتبہ گرانڈ سلام کے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرنے کا ریکارڈ بنایا ہے۔ سونیگو کو راست سٹوں میں شکست دینے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے فیڈرر نے کہا ہے کہ پہلے سیٹ کے بعد میں نے محسوس کیا کہ مقابلہ کو بہتر طریقہ سے قابو میں کرسکتا ہوں۔ کوارٹر فائنل میں رسائی سے میں بہت زیادہ خوش نہیں ہوں بلکہ میری توجہ آئندہ مقابلوں پر مرکوز ہے۔ فیڈرر نے مزید کہا کہ مجھے یہاں اس طرح مظاہرہ کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے اور امید ہے کہ رواں ہفتہ مقابلوں کا مشاہدہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ شائقین آئیں گے۔ دیگر کھلاڑیوں میں جمی کارنرس نے 14 مرتبہ، آرتھر گور نے 12، جوکووچ نے بھی 12 اور بوریس بیکر نے 11 مرتبہ ومبلڈن کے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی ہے۔ دیگر مقابلوں میں عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ نے گارین کو بہ آسانی 6-2، 6-4، 6-2 سے شکست دی۔ چوتھے راؤنڈ کے مقابلے میں خطاب کے دعویدار تصور کئے جانے والے جرمنی کے الیگزینڈر ژوریف کو 5 سٹوں کے مقابلے میں آئیگر الیاسیمی نے 4-6، 6-7(6)، 6-3، 6-3، 4-6 سے شکست دے کر حیران کن نتیجہ فراہم کیا۔ عالمی نمبر ایک جوکووچ نے گراس کورٹ پر اپنے شاندار ریکارڈ کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف چلی کے حریف کھلاڑی کو آسانی سے شکست دی بلکہ کہا کہ میں اس مقابلہ میں ذہنی طور پر موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حریف کھلاڑی چونکہ سنٹر کورٹ پر پہلی مرتبہ مقابلہ کررہے تھے تو وہ کسی قدر الجھن کا شکار تھے۔ جوکووچ نے مزید کہا کہ کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کرنے پر وہ اپنے مقابلوں سے مطمئن ہیں جبکہ حریف کھلاڑی پہلی مرتبہ اس میدان میں کھیلنے کی وجہ سے دباؤ کا شکار نظر آئے جس کی وجہ سے وہ ازخود غلطیاں کررہے تھے۔ خاتون زمرے کے مقابلوں میں چوتھے راؤنڈ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے والی ایما راڈوکینو کو مقابلہ سے دستبردار ہونا پڑا۔ وہ آسٹریلیائی حریف کھلاڑی ٹام جانووک کے خلاف 4-6، 0-3 سے پیچھے تھیں۔ برطانوی نوجوان ٹینس اسٹار جنہوں نے ومبلڈن میں انتہائی شاندار مظاہرے کرتے ہوئے خود کو ایک سوپر اسٹار کی طرح پیش کیا تھا لیکن وہ چوتھے راؤنڈ کے مقابلہ میں میچ کے دوران ابتدائی طبی امداد حاصل کرنے کے باوجود مقابلہ مکمل نہ کرسکیں کیونکہ انہیں سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔ 18 سالہ کھلاڑی ایما راڈوکینو نے مقابلہ کے دوران سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کی۔ مقابلہ کے دوران میدان میں ان کی ماں رینی بھی موجود تھیں تاہم بیٹی کا اس طرح مقابلہ سے اخراج پر وہ بھی آبدیدہ ہوگئیں۔ ومبلڈن حکام نے ایما راڈوکینو کی سانس لینے میں تکلیف کی توثیق کی جبکہ مقابلہ سے اس طرح باہر ہونے پر وہ نم آنکھوں کے ساتھ میدان چھوڑکر گئیں۔ مقابلہ سے اس طرح باہر جانے سے قبل ایک گھنٹہ 15 منٹ انہوں نے جو مظاہرے کئے وہ برطانوی شائقین کے لئے تفریح کا مکمل سامان تھا اور میدان میں موجود شائقین نے ان کی داد و تحسین کی۔ علاوہ ازیں مقابلہ کے بعد انٹرویو کے دوران ٹام جانووک نے کہا کہ مقابلہ کا اس طرح اختتام پر مجھے مایوسی ہوئی ہے۔ کاش کے ہم مقابلہ مکمل کرپاتے۔ ایک اور مقابلہ میں امریکہ کی نوجوان کھلاڑی کوکوگاف کو سابق عالمی نمبر ایک انجیلک کربر کے خلاف راست سٹوں میں شکست برداشت کرنی پڑی۔ کربر نے نوجوان امریکی حریف کوکو گاف کو راست سٹوں میں 6-4، 6-4 سے شکست دی۔