حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئے
ہندوستان بھر میں جہاں کہیں انتخابات ہوتے ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی قواعد بھی واضح کئے جاتے ہیں۔ دعوی تو یہ بھی کیا جاتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان قواعد اور ضابطوں پر عمل آوری کی جائے گی اور ہر جماعت بھی اپنے اپنے طور پر اسی طرح کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کو بری طرح پامال کرتے ہوئے انتخابی ماحول میں فرقہ واریت کو گھول کر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جہاں تک بی جے پی کی بات ہے تو یہ اس معاملے میں انتہائی مہارت رکھتی ہے ۔ ترقیاتی اور عوامی اہمیت کے مسائل پر انتخابات لڑنے کی بجائے بی جے پی ہمیشہ ہی ہندو ۔ مسلم کے نعرے پر انتخاب لڑتی ہے ۔ سماج میں تفریق پیدا کرتی ہے ۔ عوام میں ایک دوسرے کے تعلق سے نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ بی جے پی کے تقریبا تمام قائدین اس میں مشہور ہیں۔ گلی کے قائدین سے لے کر دہلی کے قائدین تک اسی طرح کی سیاست کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم تک نے بھی گذشتہ اسمبلی انتخابات میں شمشان ۔ قبرستان جیسے ریمارکس کرتے ہوئے بی جے پی کیلئے ووٹ مانگے تھے ۔ اترپردیش میں ملک کی دیگر چار ریاستوں کے ساتھ انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کے شیڈول کا اعلان بھی کردیا گیا ہے ۔ تمام جماعتیں اپنے طور پر ان کی تیاریوں میں جٹ گئی ہیں۔ ایسے میں ریاست کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے ہمیشہ کی طرح اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر ابھی سے فرقہ وارانہ ریمارکس شروع کردئے ہیں۔ دوسرے قائدین پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام عائد کرنے والی بی جے پی کے چیف منسٹر خود اترپردیش کے انتخابات کے تعلق سے ایسے ریمارکس کر رہے ہیں جو کسی سنجیدہ کارکن کو بھی ذیب نہیں دیتے ۔ آدتیہ ناتھ نے کہا کہ یو پی کے انتخابات در اصل 80 فیصد بمقابلہ 20 فیصد ہیں۔ ان کا اشارہ در اصل 80 فیصد ہندو بمقابلہ 20 فیصد مسلمان کا تھا ۔ اس طرح انہوں نے ابھی سے ریاست کے ماحول میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے کا آغاز کردیا ہے ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ریاست میں قانون اور قواعد پر عمل کروانے کی ذمہ داری رکھنے والے چیف منسٹر خود اس طرح کے ریمارکس کرتے ہوئے قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ وہ ایک طرح سے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہاں مقابلہ ہندو ۔ مسلمان کے درمیان ہے ۔ جبکہ یہ جمہوری عمل ہے اور انتخابات کے ذریعہ ایک نئی حکومت کا انتخاب کیا جائیگا ۔ ایسے میں مذہب کے نام پر منافرت پھیلاتے ہوئے آدتیہ ناتھ اپنی پراگندہ ذہنیت کو ایک بار پھر سب پر آشکار کر رہے ہیں۔ آدتیہ ناتھ کے ریمارکس کے علاوہ خود ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بھی اسی طرح کے ریمارکس کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کیلئے مشہور ہیں۔ ان تمام قائدین کے بیانات اور ریمارکس کے ذریعہ یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان کیلئے سیاسی فائدہ کا حصول ہی سب کچھ ہے ۔ وہ اپنے اقتدار کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور اس خواہش میں انہیں قوانین و اصولوں اور ضوابط کی کوئی فکر لاحق نہیں ہے ۔و ہ اپنی اقتدار کی ہوس کی تکمیل کیلئے قوانین کی کسی بھی حد تک دھجیاں اڑاسکتے ہیں۔ عوام کیلئے اپنے کردار سے مثال پیش کرنے کی ان تمام قائدین پر ذمہ داری ہے اور یہ لوگ اقتدار حاصل ہونے اور اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے بعد عوام سے قوانین کی پابندی کی امید کرتے ہیں اور انہیں تلقین بھی کرتے ہیں لیکن وہ خود تمام قوانین اور اصولوں کی دھجیاںاڑنے سے معمولی سا گریز بھی نہیں کرتے اور انہیں اس پر کوئی افسوس بھی نہیں ہوتا ۔
سیاسی جماعتوں اور قائدین اور خاص طور پر برسر اقتدار جماعتوں کے قائدین کی جانب سے قوانین اور انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کے معاملات میں الیکشن کمیشن بھی اکثر و بیشتر بے بس نظر آتا ہے ۔ وہ بھی شکایات کا جائزہ لینے میں مصروف رہتا ہے کہ انتخابات کا عمل ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ اگر کہیںسزائیں بھی دی جاتی ہیں تو دو تا تین دن مہم سے روکا جاتا ہے ۔ یہ سب کچھ محض دکھاوا ہے ۔ الیکشن کمیشن کو ایسی کوششوں کا سخت نوٹ لیتے ہوئے انہیں ساری مہم سے اور خود انتخابات میں حصہ لینے سے بائیکاٹ کیا جانا چاہئے ۔ اسی وقت انتخابات کا عمل شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوسکتا ہے ۔ ورنہ کچھ گوشے اسے مذاق بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
