قائد اپوزیشن کا عہدہ پدما راؤ کو دیا جائے: ریونت ریڈی

   

کے سی آر منہ چھپارہے ہیں، چیف منسٹر اور ہریش راؤ کے مابین اسمبلی میںلفظی جنگ
حیدرآباد : 12 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی میں اہم مسئلہ اٹھایا۔ مباحث سے قائد اپوزیشن کے سی آر کی غیر حاضری پر تشویش کا اظہار کیا اور اس اہم عہدے کی ذمہ داری پدما راؤ گوڑ کو دینے کی تجویز پیش کی ۔ فارم ہاؤز میں روپوشی کا کے سی آر پر الزام عائد کیا ۔ ان ریمارکس پر ہریش راؤ اور چیف منسٹر کے درمیان لفظی نوک جھونک ہوگئی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس پر آج مباحث ہورہے ہیں ، بحیثیت قائد اپوزیشن اسمبلی میں رہنے مباحث میں حصہ لے کر حکومت کو مشورے دینے کی بجائے فارم ہاؤز میں آرام کا الزام عائد کیا ۔ تلنگانہ کے ساتھ پانی کے مسئلہ پر دغابازی کرنے والے سی آر او کو اسمبلی میں موجود رہنا چاہیئے ۔ انہوں نے اسپیکر سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ پر مباحث میں حصہ لینے قائد اپوزیشن کو اسمبلی طلب کریں یا کسی اور دن اس پر مباحث کا اہتمام کریں ۔ اگر وہ اس عہدے پر اسمبلی پہنچنے تیار نہیں ہے تو ان کی جگہ سابق ڈپٹی اسپیکر پدما راؤ گوڑ قائد اپوزیشن کی نشست پیش کی جائے تو بہتر ہے ۔ جب سے اسمبلی بجٹ سیشن شروع ہوا ہے تب سے یہ نشست خالی نظر آرہی ہے جو اسمبلی روایت کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔ کریم نگر کے عوام نے بھگا دیا تو 2009 میں محبوب نگر کے عوام نے ہاتھ تھاما مگر کے سی آر نے انہیں بھی دھوکہ دیا ۔ چیف منسٹر کے ان ریمارکس پر بی آر ایس رکن اسمبلی ہریش راؤ نے اعتراض کیا اور کہا کہ چیف منسٹر کو تلنگانہ تحریک کے بارے میں بات کرنے کا حق نہیں ہے ۔ ریونت ریڈی کو کوڑنگل کے عوام نے بھگا دیا تو ملکاجگری پہنچے تھے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک پانی کے اطراف گھومتی تھی، بالخصوص جنوبی محبوب نگر ، رنگاریڈی ، نلگنڈہ ، کھمم کے کسانوں اور عوام کا انحصار دریائے کرشنا پر ہے ، جہاں سے 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے نقل مقام کیا ہے ۔ ہریش راؤ نے چیف منسٹر پر اسمبلی میں بحیثیت صدر پردیش کانگریس و گاندھی بھون کی طرح اسمبلی میں تقریر کا الزام عائد کیا ۔ 2