قاتلوں اور عصمت دری کے مجرموں کا استقبال کرنا کس کے سنسکار ہیں۔مسلم مجلس کا وزیر اعظم سے سوال

   

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس کے قومی صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا ہیکہ وہ گجرات کی بی جے پی سرکار کے اس شرمناک فیصلے کی مذمت کیوں نہیں کررہے جس کے تحت ان گیارہ سنگین جرائم کے مرتکب قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔یہ سوال انہوں نے آج جاری ایک پریس بیان میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان مجرمین نے گجرات فسادات کے دوران 5مہینوں کی حاملہ بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کی اور اس کی 3سال کی معصوم بچی کو فرش پر پٹک کر مار دیا اور دیگر کئی خواتین کی عصمت دری کرکے ان کو اور ان کے خاندان والوں کو قتل کردیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان درندہ صفت شیطانوں کا جیل سے باہر آنے پر سنگھ پریوار سے وابستہ لوگوں نے ہار پہناکر استقبال کیا۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور وزیراعظم مودی باربار سنسکاروں اور ناری شکتی کی بات کرتے ہیں۔کیا یہی سنسکار ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں ملک کا نام بدنام کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ گھناؤنے جرائم سرزد کئے جارہے تھے اس وقت گجرات میں نریندر مودی اور امیت شاہ کی حکومت تھی۔ بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے مجرموں کو برہمن بتاکر اپنی منووادی ذہنیت کا بھی ثبوت دیا ہے ۔ ڈاکٹر بصیر نے کہا کہ اس اقدام سے قاتلو ں اور عصمت دری کرنے والے درندوں کا حوصلہ بلند ہوگا اور ملک سے قانون کے راج کا خاتمہ ہوگا۔ ہمارا مطالبہ ہیکہ ان مجرموں کو گرفتار کرکے دوبارہ جیل بھیجا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو آگے آکر اس کیلئے آواز بلند کرنی چاہیے ۔جو سیاسی جماعتیں خاموش ہیں وہ قاتلوں اور زانیوں کیساتھ سمجھی جائینگی۔ان پرنظر رکھنی ضروری ہے ۔