نظام آباد میں مسلم وقف پروٹیکشن کمیٹی کی کامیاب مساعی، غیر مجاز قبضوں کے خلاف وقف بورڈ کی عدم دلچسپی سے عوام میں ناراضگیاں
نظام آباد :وقف کی اراضیات کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلم وقف پروٹیکشن کمیٹی کی جانب سے گذشتہ چند دنوں سے نظام آباد میں تحریک چلاتے ہوئے وقف کی اراضیات کے تحفظ کیلئے حکومتی سطح پر نمائندگی کا کام انجام دیا جارہا ہے اور مختلف تنظیموں کی جانب سے نظام آباد میں وقف کی اراضیات پر ہوئے قبضوں کا ذکر کرتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھی ہوئی ہے حالیہ چند دن قبل قلب شہر میں واقع قاضی خلیل سرائے کی اراضی پر شاپنگ مال تعمیر کرنے کی بھی شکایت عام ہے اور اس شکایت پر وقف بورڈ بھی مصروف تحقیق ہے اس کے باوجود بھی شاپنگ مال سے متصلہ اراضی پر راتوں رات کام کرتے ہوئے اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے دوبارہ تعمیر ی کام انجام دیا جارہا تھا اس بات کی اطلاع ملنے پر مسلم وقف پروٹیکشن کمیٹی کے صدر حافظ لئیق خان اور سکریٹری محمد افضل بیگ نے یہاں پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور فوری وقف بورڈ انسپکٹر محمد ساجد کو اطلاع دینے پر ساجد یہاں پہنچ کر کاموں کا جائزہ لیا اور فوری کاموں کو روک دینے کی ہدایت دی ۔ یہاں پر کوئی بھی ذمہ دار جواب دینے کیلئے تیار نہیں تھے جس پر انہوں نے کاموں کو روک دینے کی ہدایت دی ۔ محمد ساجد وقف انسپکٹر نے بتایا کہ قاضی خلیل سرائے کی جملہ 2 ایکر 32 گنٹہ اراضی تھی اور اس پر کئی قبضہ ہوئے اور یہ معاملہ عدالت میں بھی چل رہے تھے درمیان میں ان معاملات کو دبا دیا گیا اور حالیہ دنوں میں اس اراضی پر شاندار شاپنگ مال تعمیر کیا گیا اور ملبوسات کی دکان کا افتتاح بھی کیا گیا اور اس ملبوسات کی دکان سے متصل جو کھلی اراضی تھی اس پر راتوں رات بائونڈری وال تعمیر کرتے ہوئے اندرونی حصہ میں کھدوائی کے کام انجام دئیے جارہے تھے اس پر مسلم وقف پروٹیکشن کمیٹی نے یہاں پہنچ کر وقف بورڈ انسپکٹر کے ذریعہ ان کاموں کو رکوادیا ۔ وقف بورڈ انسپکٹر ساجد نے بتایا کہ اس بارے میں اڈیشنل کلکٹر اور تحصیلداراور وقف بورڈ کے سی او کو اطلاع دی گئی اورمتعلقہ عہدیداروں کے احکامات پر ڈاکومنٹس طلب کئے گئے ہیں جب تک کاموں کو روکنے کی ہدایت دی گئی ہے اور ڈاکومنٹ کی تصدیق کے بعد ہی کاموں کو انجام دیا جائیگا ورنہ قانونی طور پر کاروائی کی جائے گی۔ وقف انسپکٹر ساجد نے بتایا کہ وقف بورڈ سی ای او کی جانب سے وقف کی اراضیات کی رپورٹ طلب کی گئی ہے اور حالیہ دنوں میں ہوئے قبضہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی ۔ وقف بورڈکی جانب سے رپورٹ تو حاصل کی جارہی ہے لیکن اس پر کارروائی ابھی تک نہیں کی گئی غیر مجاز طور پر قبضہ کرتے ہوئے فرضی ڈاکومنٹ کے ذریعہ تعمیری کام انجام دینے کی صورت میں وقف بورڈ کو اسے حاصل کرلینے کے اختیارات ہے اور وقف بورڈ انہیں کرایہ دار بھی بنا سکتا ہے لیکن وقف بورڈ ابھی تک اس معاملہ میں کوئی اقدام نہیں کیا جس کی وجہ سے عوام میں بھی ناراضگیاں ظاہر ہورہی ہے بالخصوص شہر میں ہونے والے احتجاجوں کو نظرمیں رکھتے ہوئے وقف بورڈ کی کارروائی ناگزیر سمجھی جارہی ہے ۔