قانون سازی ‘ چیف جسٹس کا ریمارک

   

Ferty9 Clinic

دور تک نقش کفِ پا جو نظر آتے ہیں
کس مسافر سے ہوئی دوری منزل رسوا
ہندوستان میں حالیہ عرصہ میں جتنے بھی قوانین تیار ہوئے ہیں تقریبا تمام قوانین پارلیمنٹ کے اندر کسی تعمیری اور تفصیلی بحث کے بغیر منظور کرلئے گئے ہیں۔ بیشتر قوانین پر تو چند منٹ کے اندر اندر کارروائی کو مکمل کرکے منظوری دیدی گئی ہے ۔ یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کا کام محض قانون سازی تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔ ملک و قوم کو درپیش مسائل اور اہمیت کے حامل امور ‘ خارجہ و داخلی پالیسی حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات ‘ اپوزیشن کی تجاویز اور رائے حاصل کرنے کا کام وغیرہ سب عملا پارلیمنٹ سے ختم ہوگیا ہے ۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ حکومت جواب دینے تیار نہیں ہے ۔ حکومت محض چند بلز تیار کرتی ہے اور انہیں ایوان میں پیش کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کے دوران منظور کروالیا جاتا ہے ۔ پھر حکومت کو لگتا ہے کہ اسے فراغت ہوچکی ہے ۔ اپوزیشن کے سوال بھلے ہی دھرے کے دھرے رہ جائیں ‘ اہم امور چاہے کتنے ہی اہم ہوں لیکن ان پر بحث ہو چاہے نہ ہو لیکن حکومت کے قوانین ضرور بن جانے چاہئیں۔ اس صورتحال نے ملک کے ہر ذی فہم اور باشعور شہری کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ لوگ یہ سوال کرنے لگے ہیںکہ آیا پارلیمنٹ میں محض صرف چند بلز کو منظوری دلانا ہی حکومت کا کام رہ گیا ہے ۔ اسی صورتحال نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا کو بھی پریشان کیا ہے ۔ اس پر وہ بھی متفکر ہوگئے ہیں۔ اس کا اظہار انہوں نے آج اپنے ریمارکس میں کیا ۔ ملک میں جس طرح مباحث کے بغیر قوانین بنائے جا رہے ہیں اس پر چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو انتہائی ابتر قرار دیا اور کہا کہ پارلیمنٹ میں مناسب مباحث نہیں ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مباحث نہ ہونے کی وجہ سے قوانین پر بھی کوئی واضح صورتحال نہیں ہے ۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ قانون بنانے کا مقصد کیا ہے ۔ یہ عوام کا نقصان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وکلا اور دانشوران ایوان میں نہ ہوں تو یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے ۔یہ ریمارکس عوام کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔
آج ملک بھر میں یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ حکومت من مانی کر رہی ہے ۔ اپوزیشن کے سوالات اور ان کی تجاویز کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے ۔ حکومت کے رویہ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ ملک میں اپوزیشن کے وجود ہی کو برداشت کرنے یا تسلیم کرنے تیار نہیںہے ۔ اہمیت کے حامل قوانین اور امور پر بھی حکومت کسی کی رائے حاصل کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ دیرینہ مسائل پر بھی اگر قوانین بنائے جا رہے ہیں تو ان پر بھی ایوان میں مباحث کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ بلز کو پیش کرتے ہوئے اپوزیشن کے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے درمیان اکثریت کے بل بوتے پر قوانین منظور کروائے جا رہے ہیں۔ طاقت کے بل پر کام کیا جا رہا ہے جبکہ یہ ہندوستان کی روایت کبھی نہیں رہی ہے ۔ ہندوستان نے ہمیشہ اختلاف رائے کا احترام کیا ہے ۔ اپوزیشن کی رائے کو حکومتوں نے ہمیشہ قبول کیا ہے اور ان کو پالیسی سازی اور قانون سازی میں جگہ دی ہے ۔ کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کی روایت ہی اسی لئے رہی کہ اپوزیشن کی رائے کو حاصل کیا جاسکے ۔ پارلیمنٹ میں بلز پیش کرتے ہوئے اس کی نقول ارکان کو فراہم کرنے کی وجہ بھی یہی رہی کہ ارکان تفصیلی مطالعہ کرتے ہوئے اس پر اپنی رائے ظاہر کریں۔ ایوان میں مباحث ہوں۔ سبھی کے خیالات سے واقفیت حاصل کی جائے ۔ پھر اس کے بعد اگر حکومت کے مسودہ میں کوئی کمی رہ جائے تو پھر اس کو دور کیا جاسکے ۔
آج کے ماحول میں ساری صورتحال ہی بدل کر رکھ دی گئی ہے ۔ کئی گوشوں کی جانب سے اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ خود اپوزیشن نے بھی حکومت کے رویہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ کو محض بلز پیش کرنے اور منظور کرنے کا مقام بنادیا گیا ہے ۔ مباحث کی روایت کو عملا ختم کردیا گیا ہے ۔ اکثریت اور طاقت کے بل بوتے پر حکومت چلائی جا رہی ہے ۔ ساری صورتحال پر ملک کے چیف جسٹس کو بھی فکر لاحق ہے جس کا انہوں نے برملا اظہار بھی کیا ہے ۔ کم از کم اب حکومت کو اس پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایوان میں تمام ہی قوانین پر مباحث کروائے جانے چاہئیں۔ اپوزیشن کی رائے حاصل کی جانی چاہئے اور اتفاق رائے پیدا کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے تاکہ کہیں کوئی الجھن باقی نہ رہنے پائے ۔