نئی دہلی : ایک 77سالہ خاتون نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے قواعد پر جن میں حد عمر کا تعین کیا گیا ہے، چیلنج کرتے ہوئے نئی دہلی کی سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی ہے ۔ ’’ رولس آف لیگل ایجوکیشن اینڈ بی سی آئی رولس‘‘ تین سالہ ایل ایل بی کورس میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے اعظم ترین حد عمر داخلے کیلئے 30سال اور پانچ سالہ کورس کیلئے 20سال مقرر کرتے ہیں ۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے ۔ خاتون چاہتی ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں مداخلت کریں ۔ وہ 77سالہ بیوہ خاتون ہے اور چاہتی ہیں کہ قانون کی تعلیم حاصل کریں ۔ ان میں یہ جذبہ ان کے آنجہانی شوہر نے بیدار کیا تھا ۔ حالانکہ سپریم کورٹ اس مسئلہ پر نظرثانی کررہی ہے لیکن خاتون کو داخلے سے مختلف قانون کے کالجوں نے محروم رکھا ہے ۔ خاتون نے کہا کہ اُن کی عمر پر تحدید کی وجہ سے انہیں حکومت کے قوانین سے واقف کروا دیا گیا ۔ ’’ اپنی درخواست میں خاتون نے تحریر کیا ہے کہ انہیں اس اطلاع پر گہرا صدمہ پہنچا اور وہ مایوس ہوگئی ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے اپنی قیامگاہ کے قریب کئی قانون کی تدریس کرنے والے کالجس سے ربط پیدا کیا تھا اور داخلے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں واقف کروایا گیا کہ عمر کی حد جو بار کونسل آف انڈیا نے مقرر کی ہے اُس کی وجہ سے وہ ایل ایل بی ڈگری کورس میں داخلہ لینے کی اہل نہیں ہیں جس کی تدریس کا انتظام قانون کے تمام کالجس میں کیا گیا ہے ۔ درخواست گذار کو کہنا ہے کہ یہ قوانین بنیادی حقوق اور دستور کی دفعہ 14 اور 21کے تحت مصرح قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ حق زندگی میں تعلیم کا حق بھی شامل ہے ۔ چاہے ذریعہ تعلیم کوئی بھی زبان ہو وہ اپنی پسند کی ڈگری حاصل کرنے کی بلالحاظ عمر خواہش کرسکتی ہیں ۔ چنانچہ اپنی گذارش میں انہوں نے ہدایت دینے کی استدعا کی ہے کہ مراسلہ نمبر 6 مورخہ 17-09-2016 اور قاعدہ نمبر 11کی جدول نمبر 3 کے فقرہ 28 کو منسوخ کردیا جائے جو قانونی تعلیم حاصل کرنے کے قوانین 2008ء کے تحت درج کیا گیا ہے اور اسے غیر دستوری قرار دیا جائے ۔ درخواست گذار کا کہنا ہے کہ وہ فقرہ 28 جدول 3 قانون 11 ، قوانین برائے قانونی تعلیم 2008ء ( بی سی آئی ) قوانین کو چیلنج کررہی ہیں اور مراسلہ نمبر 6مورخہ 17-09-201 کی منسوخی چاہتی ہیں جس کی بنیاد پر دفعہ 14 کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جس میں داخلے کیلئے 20 سال اور 30سال کی عمر اعلیٰ الترتیب مقرر کی گئی ہے تاکہ کوئی بھی درخواست گذار قانون کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کسی بھی کالج میں جہاں قانون کی تعلیم دی جاتی ہو داخلہ لے سکے ۔ درخواست گذار نے سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے جو فرانسیس کورالی مولین 5 بنام منتظم مرکز زیر انتظام علاقہ دہلی میں دیا گیا تھا ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ حق زندگی اس مقصد کے حصول کیلئے بھی توسیع کیا جاسکتا ہے ۔ بنیادی حق تحت دفعہ 21 دستورہند برائے وقار کے ساتھ حق حیات میں یہ حق بھی شامل ہے جس کو پڑھا جاسکتا ، لکھا جاسکتا اور انتخاب کے عمل میں اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ درخواست گذار نے قانون دانوں نپن سکسینہ ، سیرینا شرما اور امنگ تیاگی کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ اے او آر آستھا شرما کو یہ درخواست داخل کی جاسکے ۔