قدیم دور میں ہندوستان میں بیف کا استعمال عام تھا

   

رام پنیانی

حال ہی میں یو ٹیوبر و سوشل میڈیا انفلوئنسزر دھروور راٹھی کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا جس میں خاص طور پر رام چندر جی کے کھانے پینے کی عادات کے بارے میں تفصیلات پیش کی گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ویڈیو ایک بہت بڑے تنازعہ میں تبدیل ہوگیا۔ دھروور راٹھی کے جو بھی ویڈیوز منظر عام پر آتے ہیں اُنھیں لوگوں میں غیرمعمولی پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اس ویڈیو میں بھی دھروور راٹھی نے اپنی غیر معمولی تحقیق یا ریسرچ کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ رام چندر جی سبزی خور نہیں بلکہ گوشت خور تھے۔ ان کے ویڈیوز میں خاص طور پر والمیکی رامائن سے بڑے پیمانہ پر حوالے جات دیئے گئے ہیں۔ مذہبی صحیفوں کی بنیاد پر راٹھی نے دوسرے کئی بھگوانوں کے کھانے پینے کی عادات و اطوار کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ مذہبی کتابوں میں آیا ہے کہ اُس زمانے میں گوشت خوری کا رواج تھا۔ پنتر سوم رس (ایک قسم کی شراب) پینا بھی ان کے کھانے کا ایک حصہ تھا۔ بہرحال تنازعہ اس بات پر پیدا ہوا کہ دیوتا غیر سبزی خور کیسے ہوسکتے ہیں۔ مقدس کتابوں میں اس زمانے میں نان ویج غذائیں استعمال کئے جانے سے متعلق کئی حوالے جات موجود ہیں۔ سوامی وویکانندا نے اپنی کتاب اسپٹ اینڈ ویسپٹ میں اس نقطہ نظر کی تصدیق کی ہے۔ سوامی جی نے امریکہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پرزور انداز میں کہا تھا کہ میں آپ کو یہ بتادوں کہ زمانے قدیم میں وہ شخص اچھا یعنی راسخ العقیدہ ہندو نہیں سمجھا جاتا تھا جو گائے کا گوشت نہیں کھاتا تھا۔ بعض مخصوص مواقع پر ایک ہندو کو لازمی طور پر ایک بیل کی بلی چڑھاکر اس کا گوشت کھانا پڑتا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سوامی وویکانندا شکسپیر کلب پساڈنیا کیلیفورنیا امریکہ میں 2 فروری 1900ء کو Budhistic India کے موضوع پر خطاب کررہے تھے جس کا حوالہ سوامی وویوکانندا کی کتاب The Complete Works of Swamy Vivekananda جلد 3 کولکتہ ادپتا آشرم 1997ء) صفحہ 356 میں دیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق دوسرے تحقیقی کاموں سے بھی ہوئی ہے جسے خود سوامی وویکانندا کے قائم کردہ رام کرشنا مشن نے اسپانسر کیا ہے۔ ان میں سے ایک میں کچھ اس طرح لکھا ہے : ’’ویدک آریائی بشمول برہمناس مچھلی، بکرے کا گوشت یہاں تک کہ گائے کا گوشت کھاتے تھے اور ایک ممتاز و قابل احترام مہمان کی عزت افزائی گائے کے گوشت سے کی جاتی تھی۔ اگرچہ ویدک آریائی گائے کا گوشت کھاتے تھے لیکن دودھ دینے والی گائیوں کو نہیں مارا جاتا تھا۔ گائے کے لئے لفظ AGONYA استعمال کیا جاتا تھا (جسے نہیں مارنا چاہئے لیکن مہمان کو Goghma کہا جاتا تھا (جس کے لئے گائے ذبحہ کی جاتی تھی) صرف بیل بانجھ گائے اور بچھڑے مارے جاتے تھے۔ دوسری طرف معمار دستور بابا صاحب امبیڈکر بھی غذائی روایات کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بدھ مت کے عروج کے ساتھ برہمنیت نے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے گائے ہماری ماتا ہے کا نعرہ استعمال کیا جو لوگ سبزی خور طرز زندگی اختیار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے وہ گائے کا گوشت کھاتے رہے اور انھیں اچھوت بنادیا گیا۔ اگر ہم ارتقائی نقطہ نظر سے دیکھیں تو ابتدائی انسان چرواہی معاشرے کے وجود میں آنے تک شکار کرنے اور خوراک جمع کرنے والے تھے۔ اس دوران دودھ کی مصنوعات کے علاوہ وہ جانوروں کو غذا کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے جانوروں کی بلی دینا ایک معمول بن گیا۔ گائیوں اور دیگر جانوروں کی بلی کی رسم کی مخالفت گوتم بدھ نے کی۔ جہاں تک مہاویر جی کا سوال ہے وہ جانوروں کے گوشت کے بطور غذا استعمال کو ترک کرنے کے حق میں تھے وہیں گوتم بدھ نے یہ کہاکہ اگر بھکشا (کسی عطیہ دہندہ کی طرف سے بھکشو کو دی جاتی ہے اسے بھکشا کہا جاتا ہے) نان ویج کھانا دیا جائے تو اسے قبول کیا جاسکتا ہے۔ راجہ اشوک نے جو بدھ مت کے ماننے والے تھے ایک فرمان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کی بلی کو روکا جانا چاہئے تاہم کھانے کے لئے ضروری جانوروں اور پرندوں کو مارا جاسکتا ہے۔ گزرتے وقت کے باوجود بے شمار مندروں میں آج بھی جانوروں کی بلی چڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی آسام کی کامکھیا اور دکشینشور کالی مندر جیسی کئی مندروں میں گوشت اور مرغ کی بلی چڑھانے کی روایات برقرار ہے۔ مہاراشٹرا میں لونا والا کے قریب EKVIRA DEVI کی مندر ہے جہاں مرغ اور تاڑی (سیندی) نذرانے کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ انتھرایالوجی سروے آف انڈیا کے ڈیٹا کے مطابق فی الوقت ہندوستان کی 70 فیصد آبادی گوشت خور یعنی نان ویجٹیرین ہے۔ زیادہ جینس سبزی خور ہیں اور 45 فیصد ہندو سبزی خور ہیں۔ اس کے علاوہ شمال مشرقی علاقوں کی اکثر آبادی کی پہلی غذائی ترجیح مچھلی ہے جبکہ کونکنی علاقہ میں اسے SAGAR PSSHP کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بنگال کے علاقوں میں یہ SAGAR FAL کہلاتی ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ بنگالی مچھلی کو بنگال کے رسم و رواجوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ اگر ہم دنیا بھر کے علاقوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے کھانے پینے کی عادات و اطوار بالکل مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں MUSHAR نامی ایک برادری ہے جو چوہے کھاتی ہے اور وہ شائد غربت سے مجبور ہوکر ایسا کرتے ہیں۔ دوسری طرف شمال مشرقی ریاستوں میں گائے کا گوشت ہندوستان کی دوسری ریاستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ کھایا جاتا ہے۔ جیسا کہ گائے کے گوشت یا بیف کو ایک سیاسی مسئلہ بنایا گیا ہے اور ہندو قوم پرستوں کے ہاتھوں مسلمانوں اور دلتوں کی ہجومی تشدد میں ہلاکتیں عام بات ہوگئی ہے۔ ہم نے کیرالا بی جے پی کے این شری پرکاشم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوتے ہیں تو عوام کو بہترین معیار کے بیف کی سربراہی یقینی بنائیں گے۔ فلم کیرالا اسٹوری 2 کے ٹیزر میں یہ دکھایا گیا کہ ایک ہندو لڑکی کو جس نے ایک مسلم نوجوان سے شادی کی ایک مسلم خاندان زبردستی بیف کھلاتا ہے، کیا ظالمانہ مذاق ہے۔ دراصل ہندو لڑکیوں کو مسلم مردوں کے ساتھ شادی کرنے سے روکنے اور مسلم مرد کو اپنی زندگی کے سفر کا ساتھی بنانے ان کی حوصلہ شکنی کے لئے اس طرح کی فلمیں بنائی جارہی ہیں۔ حالانکہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیرالا میں بیف کا غذاؤں میں استعمال عام ہے۔ انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری تاریخ میں ہر قسم کی غذائی عادات و اطوار رہی ہیں۔ فی الوقت VEGANISM کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ جانوروں کا دودھ ان کے بچوں کے لئے ہوتا ہے نہ کہ انسانوں کے لئے۔ یہ ایک قابل قبول اخلاقی موقف ہے۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو سبزی خوری تحفظ ماحولیات کے لئے بہتر ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی موجودہ طرز زندگی اور عادات و اطوار کا احترام کیا جانا چاہئے۔ میرے خاص دوست اور اتالیق ڈاکٹر اصغر علی انجینئر اکثر مجھ سے یہ کہا کرتے تھے کہ گاندھی جی اپنے مہمانوں کو نان ویجٹیرین غذائی اشیاء پیش کرنے میں بہت دریا دل تھے۔ اس معاملہ میں وہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ جب ان سے یہ درخواست کی گئی کہ ملک میں ذبیحہ گاؤ پر پابندی کو یقینی بنانا چاہئے تو ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لوگوں میں متنوع غذائی عادات پائی جاتی ہیں ایسے میں ذبیحہ گاؤ پر پابندی جیسے قوانین کا نفاذ غیر منصفانہ ہوگا۔