قرآن

   

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے ہماری ان نشانیوں میں سے ہیں جو تعجب خیز ہیں۔ ( سورۃ الکہف ؍۹)
گزشتہ سے پیوستہ … مفسرین کرام اور مورخین نے اصحاب کہف کی جگہ ، زمانہ اور ان کے مخصوص حالات کے متعلق متعدد اقوال نقل کئے ۔ بعض اسے حضرت عیسیٰ کے زمانہ سے پہلے کا زمانہ بتاتے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کہف خلیج عقبہ کے نواحی پہاڑوں میں واقع ہے۔ بعض نے شام کے کسی مقام کا تعین کیا ہے اور علامہ ابن حیان اندلسی صاحب البحر المحیط نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ یہ سارا واقعہ اندلس کے ملک میں ہوا۔ وہ لکھتے ہیں غرناطہ کے قریب ایک قصبہ ہے جسے ’’ لوشہ‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں ایک غار ہے جہاں کئی مردوں کے ڈھانچے ہیں۔ اور باہر ایک کتے کا ڈھانچہ بھی ہے۔ ابن عطیہ کہتے ہیں کہ وہ ۵۰۴ ھ سے اُنہیں اسی حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ وہاں ایک مسجد بھی ہے اور ایک رومی طرز کی پرانی عمارت بھی ہے جسے ’’الرقیم‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے یہ کسی قدیم قصر کے کھنڈرات ہیں اور غرناطہ سے قبلہ کی جانب ایک پرانے شہر کے آثار بھی پائے جاتے ہیں جس کا نام مدینہ و قیوس بتایا جاتا ہے۔ ابن عطیہ کا یہ قول نقل کرنے کے بعد علامہ ابن حیان لکھتے ہیں کہ جب ہم اندلس میں تھے تو لوگ اس غار کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے۔ (البحر المحیط)کئی دیگر مقامات میں غاروں میں اس قسم کے ڈھانچے دکھائی دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اہل حق پر جب جبرو تشدد کا بازار گرام ہوا ہو تو ان میں سے چند لوگوں نے قریبی پہاڑوں کی غاروں میں پناہ لی ہو اور ان کے ڈھانچے اسی طرح محفوظ ہوں اور اسپین کے جس غار کا ذکر علامہ ابن حیان نے کیا ہے وہ بھی اسی طرح کا ایک غار ہو۔