قرآن

   

Ferty9 Clinic

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ کو اور ایمان والوں کو اور (حقیقت میں) نہیں فریب دے رہے مگر اپنے آپ کو (اور اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر بڑھادی اللہ نے ان کی بیماری اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔(سورۃ البقرہ ۹ ۔ ۱۰)
وہ یہ فریب اللہ تعالیٰ سے نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ کے رسول سے کرتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا دیا کہ جو اللہ کے رسول کے ساتھ فریب کرتے ہیں وہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ فریب کرتے ہیں۔ اور اس دھوکہ بازی کا وبال ان پر ہی پڑے گا۔ وہ اسلام اور اللہ تعالیٰ کے رسول کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے۔ کیونکہ یہ نور ہے جس کو ہمیشہ تاباں ودرخشاں رکھنے کا ذمہ دار خود اللہ تعالیٰ ہے۔
حضور اکرم (ﷺ) کے خلاف منافقین کے دل میں عداوت کے جو جذبات پرورش پا رہے تھے اور حسد اور غصہ کی جو چنگاریاں چٹخ رہی تھیں ان کو قرآن نے مرض سے تعبیر فرمایا ہے۔ جب وہ حضور اکرم (ﷺ) اور اسلام کی روزافزوں عزت اور ترقی کو دیکھتے تو حسد وعناد کے شعلے بھڑک اُٹھتے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں تنبیہ فرماتا ہے کہ اگر انہوں نے اس مرض کو یونہی بڑھنے دیا اور اس کا علاج نہ کیا تو جس طرح جسمانی بیماریاں جسمانی موت کا باعث بنتی ہیں۔ اِسی طرح اُن کا یہ مرض اُن کے قلب و روح کا گلا گھونٹ کر رکھ دے گا۔