اور جب کہا جائے اُنھیں کہ مت فساد پھیلاؤ زمین میں تو کہتے ہیں ہم ہی تو سنوارنے والے ہیں ۔ ہوشیار! وُہی فسادی ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔ ( سورۃ البقرہ ۱۱۔ ۱۲)
اس آیت میں اُن کے دلوں کے بیمار ہونے کی دلیل پیش کی جا رہی ہے۔ وہ دن رات فتنہ وفساد پھیلانے میں اور حق کی شمع بجھانے میں مصروف ہیں اور اگر اُن کی فتنہ پردازیوں کی طرف توجہ دلا کر انہیں باز رہنے کو کہا جاتا ہے تو اُلٹا گھورتے ہیں اور کہتے ہیں آپ ہمیں فسادی کہتے ہیں۔ ہم ہی تو امن واصلاح کے لئے ہر وقت کوشش کر رہے ہیں۔ اب جو شخص فساد پھیلانے اور حق کا چراغ گل کرنے کو اصلاح کہنے پر مصر ہو اس کے قلب ونظر کو اگر بیمار نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے ۔ اب آپ اپنے گردو پیش پر نگاہ ڈالیئے۔ جتنے نئے فرقے، نئے مذہب جنم لے رہے ہیں اُن کے بانی بھی دین کی اصلاح اور قوم کی فلاح کا دعویٰ ہی کرتے ہیں لیکن اُن کی فتنہ پردازیاں آئے دن جو گُل کھلارہی ہیں ان کے باعث تو قوم کا ذہنی اِتحاد بھی پاش پاش ہوتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اِن نادان دوستوں یا دانا دشمنوں کے مکروفریب سے اُمت کو بچائے اور ہمیں توفیق بخشے کہ ہم اِن کو پہچان سکیں۔ آمین۔
