اور جب کہا جائے اُنھیں ایمان لاؤ جیسے ایمان لائے (اور) لوگ تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف خبردار! بےشک وہی احمق ہیں مگر وہ جانتے نہیں۔ اور جب ملتے ہیں ایمان والوں سے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف (اِن کا ) مذاق اُڑارہے تھے ۔(سورۃ البقرہ ۔۱۳۔۱۴)
وہ لوگ جن کے نزدیک نفع ونقصان اور سود وزیاں جانچنے کی کسوٹی صرف دنیا کا عیش وآرام اور عزت وجاہ ہے اُن کے نزدیک وہ ہستیاں عقل ودانش سے محروم ہیں جو اپنے دین وایمان کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں اِن سے زیادہ دانا اور کون ہے جنہوں نے فانی دے کر باقی کو لے لیا ۔ جنہوں نے جان دے کر اپنے مالک کی رضا حاصل کر لی۔ ’’ورضوان من اللہ اکبر ‘‘ اور اُن سے بڑھ کر احمق کون ہے جنہوں نے چند روزہ زندگی کی راحتوں کے عوض اپنے آپ کو ابدی راحتوں بلکہ اپنے رب کریم کی خوشنودی سے محروم کردیا۔ اس لئے قرآن نے فرمایا اَ لَآ اِنَّـهُـمْ هُـمُ السُّفَهَآءُ۔ منافقین کا رویہ یہ تھا کہ مسلمانوں سے ملتے تو اُنہیں کہتے کہ ہم ایمان لا چکے ہیں۔ اور کفار کے سرغنوں کے پاس تنہائی میں جا جا کر اُنہیں یقین دلاتے کہ ہم اپنے مذہب پر قائم ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہماری بات چیت اور اُٹھنا بیٹھنا اس وجہ سے ہرگز نہیں کہ ہم اُن کا دین قبول کر چکے ہیں بلکہ ہم تو اس طرح اُن کو بےوقوف بناتے ہیں اور اُن کا تمسخر اُڑاتے ہیں۔
