قرآن

   

(یہ) وہ لو گ ہیں جنھوں نے خرید لی گمراہی ہدایت کے بدلے مگر نفع بخش نہ ہوئی اُن کی (یہ) تجارت اور وہ صحیح راہ نہ جانتے تھے۔ ( سورۃ البقرہ ۔۱۶) 
اشتراء کا معنی ہے خریدنا ، قیمت ادا کر کے کوئی چیز لینا۔ یہاں اشتراء کا یہ معنی تب درست ہو سکتا تھا جب کہ منافقوں کے پاس دولت ایمان ہوتی اور اسے دے کر وہ کفر خریدتے۔ وہاں تو پہلے بھی کفر ہی تھا ۔ اس لیے علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہاں اشتروا بمعنی استحبوا ہے یعنی اُنہوں نے کفر کو پسند کر لیا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ فرماتے ہیں لغت عرب میں شراء کا لفظ ایک چیز کو دوسری چیز سے بدل لینے کے معنی میں عام مستعمل ہے۔(القرطبی) ۔انہوں نے منافقت کا نقاب تو اس لئے ڈالا تھا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو کر دنیاوی فوائد حاصل کر یں گے۔ مال غنیمت سے اُنہیں حصہ ملے گا اور ان کی چودھراہٹ قائم رہے گی لیکن ان کی کوئی اُمید بر نہ آئی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کا پردہ چاک کردیا۔ حضور نبی کریم (ﷺ)  نے سر محفل ایک ایک کا نام لے کر اُسے مسجد سے نکال دیا۔نفع کمانا تو کجا اُن احمقوں نے تو اپنا سرمایہ (فطرت سلیمہ) ہی تباہ کر دیا ۔ (مظہری)