یا پھر جیسے زور کا مینہ برس رہا ہو بادل سے جس میں اندھیرے ہوں اور گرج اور چمک ہو ٹھونستے ہیں اپنی اُنگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے باعث موت کے ڈر سے اور اللہ گھیرے ہوئے ہے کافروں کو۔ ( سورۃ البقرہ ۔۱۹)
اس آیت میں کئی چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ بارش، اندھیرے، بادل کی کڑک اور بجلی کی روشنی اور ایسے سمے میں سفر کرنے والا شخص۔ یہ سب مشبّہ بہا ہیں۔ جب تک ان کے مشبّہات (یعنی یہ کن چیزوں کی تشبیہیں ہیں) کا تعین نہ کر لیا جائے اس مثال کا حسن نکھر کر سامنے نہیں آتا۔ بارش سے مراد اسلام ، اندھیروں اور بادل کی کڑک سے مراد وہ مصائب اور مشکلات ہیں جنہوں نے چاروں طرف سے اسلام کو گھیر لیا تھا۔ اور بجلی کی روشنی سے مراد وہ فتوحات وغیرہ ہیں جو ان ناسازگار حالات میں اسلام کو حاصل ہوتی رہیں۔ جس طرح بارش مردہ زمینوں کو نئی زندگی بخش دیتی ہے اسی طرح اسلام مردہ دلوں کو نئی زندگی مرحمت فرماتا ہے۔ جیسے بارش برستے وقت تاریکی پھیل جاتی ہے اور بادل کی خوفناک کڑک سے دل دہلنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کا مینہ برستے وقت کھلی عداوتوں اور پوشیدہ سازشوں کا ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ فضا یکسر مکدر ہو گئی ۔ جو سچے دل سے ایمان لا چکے تھے نہ اندھیروں سے اُنہیں وحشت تھی نہ بادل کی کڑک سے وہ ہراساں تھے۔ لیکن وہ لوگ جو مذبذب تھے ان کی حالت عجیب ڈانواں ڈول تھی وہ اسلام کے حیات بخش چھینٹوں سے سیراب بھی ہونا چاہتے تھے۔ لیکن مصائب کی تاریک گھٹائیں دیکھ کر اسلام کا دامن چھوڑنے میں ہی اُنہیں اپنی سلامتی نظر آتی تھی۔ پھر اگر اسلام کو کوئی کامیابی نصیب ہوتی تو وہ اسلام کی طرف لپکنے کی تیاری کرتے ایسے میں اگر مصائب کا کوئی تندوتیز جھونکا آجاتا تو وہ بددل ہو کر رہ جاتے۔