قرآن

   

قریب ہے کہ بجلی اُچک لے جائے اُن کی بینائی جب چمکتی ہے اُن کے لئے تو چلنے لگتے ہیں اُس (کی روشنی) میں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے اُن پر تو کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لے جائے اِن کے سننے کی قوت اور اُن کی بینائی بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اے لوگو! عبادت کرو اپنے رب کی جس نے پیدا فرمایا تمہیں اور جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (سورۃ البقرہ :۲۰۔۲۱) 
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہندی، مصری اور یونانی دیوتاؤں کی طرح اس کے اختیارات محدود نہیں ہیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا تابع فرمان ہے۔ بلندیاں اور پستیاں سب اس کے حکم کے سامنے سرافگندہ ہیں۔ان آیات میں اسلام کے بنیادی مقاصد یعنی توحید، صداقت قرآن اور حقانیت نبوت وغیرہ پر ایمان لانے کی دعوت دی جارہی ہے۔ اسلام کیونکہ کسی خاص قوم، ملک اور وقت کا دین نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کا تاقیامِ قیامت دین ہے اس لئے عام خطاب سے دعوت دی جارہی ہے یٰٓاَیُّهَا النَّاسُ ! اے تمام انسانو! توحید رُبوبیت سے توحید اُلوہیت پر استدلال قائم کیا جارہا ہے۔ نعمت ایجاد اور بقاء کا ذکر فرما کر ثابت کیا کہ وہ وحدہٗ لا شریک ہے۔ یعنی تم اپنے رب کی عبادت کرو۔ کیونکہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا۔ اگر وہ کرم نہ فرماتا تو تم فنا کی دنیا سے وجود کی دنیا میں کیسے آسکتے۔ پھر اس نے مزید کرم یہ فرمایا کہ تمہیں پیدا کر کے تمہارے آرام وآسائش اور حیات و بقا کے سارے سامان خود فراہم کر دئیے۔ اگر وہ تمہیں صرف پیدا کر کے چھوڑ دیتا اور اپنے لطف وعنایت سے تمہارے رزق اور آسائش کا انتظام نہ فرماتا تو تم پیدا ہوتے ہی ہلاک ہو جاتے۔ …جاری ہے