قرآن

   

وہ جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت اور اُتارا آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کے لئے پس نہ ٹھیراؤ اللہ کے لئے مد مقابل اور تم جانتے ہو۔ اور اگر تمھیں شک ہو اس میں جو ہم نے نازل کیا اپنے (برگزیدہ) بندے پر تو لے آؤ ایک سورت اِ س جیسی اور بلا لو اپنے حماتیوں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔(سورۃ البقرہ :۲۲۔۲۳) 
مشرکین کے بتوں کو أَنْدَادًاکیوں کہا گیا؟ اس کی وجہ علامہ بیضاوی تحریر فرماتے ہیں: کیونکہ اُنھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ دی تھی اور صرف ان بتوں کی عبادت ہی کرتے تھے اور ان کو اِلٰہ (خدا ) بھی کہتے تھے۔ یہ دلیل ہے قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے اور حضور (ﷺ) کی رسالت کی۔ یہ چیلنج صرف عرب کے شعرا اور بلغا ء کے لئے نہیں بلکہ عرب و عجم کے سب منکرین کو دیا جا رہا ہے۔ اسلام کے دشمنوں کے لئے یہ کتنا آسان طریقہ تھا کہ تین آیت کی ایک سورت بنا کر قرآن کے اس چیلنج کا جواب دے دیتے۔ اور اس طرح قرآن، نبوت اور اسلام کی صداقت اور عظمت کو یک دم ختم کرکے بیک کرشمہ سہ کار کا منظر دکھا دیتے ۔ لیکن چودہ صدیاں گزر چکی ہیں اور شرق وغرب کے بدخواہ لگاتار کوششوں کے باوجود اس چیلنج کا جواب آج تک نہیں دے سکے۔ اور نہ قیامت تک دے سکیں گے جیسے قرآن نے پیشین گوئی کر دی ہے تو اب کسی انصاف پسند ذی ہوش کے لئے یہ ماننے میں انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جس عبد مقرب (ﷺ) پر یہ قرآن نازل ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ رسول ہے۔ اس ایک آیت میں قرآن کے کلام الٰہی ہونے اور حضور سرور عالم (ﷺ) کے رسول ہونے کی ایسی دلیل پیش فرما دی جس کے سامنے بڑے بڑے سرکش مخالفوں کی گردنیں جھک گئیں۔