مہلوکین میں ہندوستانی شہری بھی شامل ۔ سفارتخانہ نے تاحال توثیق نہیں کی
دوحہ 22 جون ( ایجنسیز ) قطر کے راس لفان صنعتی شہر میں ایک اہم ایل این جی ہب میںدھماکہ ہوا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی ۔ اس کے نتیجہ میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ مہلوکین میں ہندوستانی اور پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ راس لفان صنعتی شہر دنیا کے اہم ترین ایل این جی ہب میںشمار کیا جاتا ہے ۔ قطر انرجی نے آج یہ بات بتائی ۔ کمپنی نے بتایا کہ تحقیقات کا آعاز کردیا گیا ہے تاکہ دھماکہ کی وجوہات کا پتہ چلایا جاسکے ۔ کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے نتیجہ میں قطر کے ایل این جی ایکسپورٹس متاثر نہیں ہوئے ہیں ۔ یہاںگ یس کی تنصیبات اور راس لفان بندرگاہ پر معمول کے مطابق کام کیا جا رہا ہے ۔ قطر میں ہندوستانی سفارتخانہ نے تاہم ابھی اموات کی توثیق نہیں کی ہے ۔ سفارتخانہ نے اس راس لفان صنعتی شہر میں پیش آئے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے نتیجہ میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد کچھ افراد لاپتہ بھی بتائے گئے ہیں۔ سوشیل میڈیا پر ایک بیان پوسٹ کرتے ہوئے سفارتخانہ نے کہا کہ وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور حالات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ سفارتخانہ نے اس حادثہ پر قطر کے عوام اور حکومت سے اظہار یگانگت بھی کیا ہے ۔ قطری وزارت داخلہ نے بتایا کہ راس لفان دھماکے میں 54 افراد زخمی اور 18 لاپتہ ہو گئے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اتوار کو قطر کے مرکزی ایل این جی پراسیسنگ مرکز راس لفان میں دھماکے میں 54 افراد زخمی اور 18 افراد لاپتہ ہو گئے ۔ قطر انرجی نے ایک بیان میں کہا کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کے دوران ایک حادثے کے باعث اتوار کی شام برزان مقامی گیس سپلائی تنصیب میں دھماکہ ہوا اور آگ لگ گئی۔ آگ پر قابو پانے ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر روانہ کی گئیں اور اب آگ قابو میں ہے ۔ وزارت کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے ۔