مولانا ڈاکٹر ابوزاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری کا بیان
حیدرآباد ۔ یکم ستمبر ( پریس نوٹ ) مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی جنرل سکریٹری مرکزی مجلس فیضان ملتانیہ نے کہا کہ آج سارے عالم کے تقریباً تمام حصوں میں اُمت مسلمہ انتہائی کسم پرسی کی زندگی گزار رہی ہے جس سے نجات پانے کیلئے تقریباً تمام مقدس اور عام مقامات پر دعائیں کی جارہی ہیں ۔ دعا کو عبادتوں کا مغز اور مومن کا ہتھیار قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ہماری دعاؤں میں کوئی تاثیر نظر نہیں آرہی ہے چونکہ ہمارے اس ہتھیار کو زنگ لگ گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری دعاؤں میں نہ شوق، کڑھن ، سسکیاں باقی رہیں اور نہ ہی قلق و اضطراب اور وجدانی و ہیجانی کیفیت۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زنگ آلود ہتھیار سے نہ دشمن کو شکست دی جاسکتی ہے اور نہ کوئی بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ دعا میں تاخیر پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی دعاؤں میں شعور احساس کے ساتھ خشوع و خضوع پیدا کریں اور اس کیلئے قلب و جل ( یعنی اللہ کے خوف و خشیت اور تعظیم سے بھرا ہوا قلب ) کی از حد ضرورت ہوتی ہے جو مومنین کی اہم صفات میں سے ایک صفت ہے ۔
