قلعہ گولکنڈہ اور نیا تالاب کے تحفظ کیلئے ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کی گولف کورس کے قیام پر اعتراض، آئندہ سماعت 14 ڈسمبر کو ہوگی

   


حیدرآباد ۔11 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اجل بھویاں اور جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے قلعہ گولکنڈہ اور نیا قلعہ تالاب کے تحفظ کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے مفاد عامہ کی دو درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے اور متعلقہ حکام سے موجودہ موقف پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ اس بات کا پتہ چلے کہ گولکنڈہ قلعہ اور نیا قلعہ تالاب کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ درخواست گزاروں نے شکایت کی کہ تالاب کے تحفظ میں تساہل سے کام لیا جارہا ہے۔ درخواست گزار نے بتایا کہ قلعہ کے 100 میٹر کے حدود میں کوئی تعمیر نہیں کی جاسکتی لیکن آرکیالوجیکل سروے نے ایک خانگی کمپنی کو ولاس کی تعمیر کی اجازت دی ہے جو قومی یادگاروںکے تحفظ سے متعلق قانون کی خلاف وررزی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ گولف کورس کی تعمیر کیلئے تاریخی قلعہ کا کافی حصہ حاصل کرلیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے محکمہ آبپاشی کے وکیل سے دریافت کیا کہ آیا قومی یادگار کے حدود میں گولف کورس کے قیام کی اجازت ہے؟ انہوں نے اس مسئلہ پر ریاستی حکومت اور وقف بورڈ سے موقف کی وضاحت کی ہدایت دی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ گولکنڈہ میں نیا تالاب جوں کا توں برقرار ہے اور اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عدالت میں جون 2021 ء کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں ضلع کلکٹر نے تالاب کے تحفظ کی تفصیل پیش کی ہے ۔ گولف کورس کے وکیل نے بتایا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے اجازت حاصل کرتے ہوئے گولف کورس تعمیر کیا گیا ۔ عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 14 ڈسمبر کو مقرر کی ہے۔ ر